طب امام رضا علیہ السلام میں حجامہ اور فصد کی اہمیت اور مختلف بیماریوں کاعلاج

 

طب اسلامی میں خاص کر طب امام رضا علیہ السلام میں جڑی بوٹیوں کی خاص اہمیت بیان کی گئی ہے۔ مختلف بیماریوں کےعلاج کے لئےجڑی بوٹیوں کے استعمال کے بارے میں تفصیلی بحث موجود ہے؛ لہذا طب امام رضا علیہ السلام کے نسخے پر عمل کرکے ہم مختلف قسم کی لاعلاج بیماریوں سے نجات پا سکتے ہیں۔

 بعض لوگوں کا خیال ہےکہ اسلام نے صرف روحی غذائیت پر توجہ دی ہے؛ جسمی غذائیت اور نشونما سے اس کو کوئی سروکارنہیں یہی وجہ ہے کہ عام علمی اور حفظان صحت کی کتابوں میں کوئی اسلامی نسخہ نہیں ملتا ہے؛ حالانکہ یہ بات مکمل طورپرغلط ہے؛ کیونکہ دین مبین اسلام نے انسانی صحت پر خاص توجہ دی ہے۔ اسلام ہی وہ فطری دین ہے جس نے 14 سو سال پہلے انسانی صحت کے سنہری اصول بیان کرکے گم گشتہ انسان کو اس کی اپنی صحیح منزل کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ دین مبین اسلام نے جہاں روح کی بلندی کے لئے اہم اصول متعین کردیئے ہیں وہی جسمی صحت کے لئے مفید خوراک اور دوا کی نشاندہی کی ہے۔ [1]

صحت کے لیے اچھی غذا بہت اہم ہے،غذا ایسی ہونی چاہیے جو صحت کے لیے مفید ہو، ایسی چیزوں کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے جو صحت اور تندرستی کے لیے نقصان دہ ہوں۔ اسلام کےحفظان صحت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک خوراک ہے۔ جسے ’اطعمہ اور اشربہ‘ سے یاد کیا جاتا ہے۔

امام رضا علیہ السلام حفظان صحت کے اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: انسانی بدن کا قوام اور صلاح اوراس کی کمزوری اور بیماری، کھانے پینے کی اشیا میں ہی مضمر ہے؛ لہذا اگربدن کو صحت مند اور تندرست رکھنا ہے تو کھانے پینے والی اشیا پرخاص توجہ دی جائے، اگرخوراک فاسد ہوتو جسم اور بدن بھی فاسد ہوجاتا ہے اگر خوراک سالم ہوتوجسم بھی صحت مند اور سالم بن جاتا ہے۔[2] (مثال کے طور پر عام مارکیٹوں میں تیار ہونے والا تیل غیرطبیعی ہونے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا باعث بن جاتا ہے۔ اگر ڈالڈے کی جگہ قرآن اور احادیث میں جس تیل کی سفارش کی گئی ہے جیسے زیتون کا تیل،تل کا تیل اور دیسی گھی وغیرہ استعمال کیا جائے تو انسان بہت ساری بیماریاں خاص امراض قلب میں مبتلا نہیں ہوتا ہے؛ آج کے ترقی یافتہ دورمیں انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے جس کی اصل وجہ طب اسلامی اور دینی دستورات سے روگردانی ہے۔)

امام رضا علیہ السلام فرماتےہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے پاکیزہ غذاؤں کو حلال،اور گندی غذاؤں کو حرام قراردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں بے شمار حکمتیں ہیں۔ اللہ تعالی نے ان تمام غذاوں کو حرام یا مکروہ قرار دیا ہے جو مضر صحت ہوں اور وہ غذائیں جو انسانی جسم کے لئے فائدہ مند اور ضروری ہوں اسے واجب یا مستحب قرار دیا ہے اور وہ غذائیں جو انسانی جسم کے لئے نہ نقصان دہ ہوں اور نہ ہی فائدہ مند اسے مباح قرار دیا ہے۔[3]

اوریہ بات بالکل واضح ہے کہ ہرغذا کی اپنی ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔ حرام غذا سے جو جسم پرورش پاتا ہے، وہ نہ صرف باطنی بلکہ ظاہری طور پر بھی بہت سی برائیوں اور بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا ہے حقیقت یہ ہے کہ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے ان فرمودات پرعمل کرنے میں سراسر انسان ہی کا فائدہ ہے اور بعض اوقات اس فائدے کا مشاہدہ بھی ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ہماری ناقص عقل اس فائدہ کا ادراک کرنے سے قاصر رہتی ہے۔

در حقیقت ہماری پریشانیوں اور مسائل کی ابتدا ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ جب ہم اللہ تعالی اور آئمہ اطہارعلیہم السلام کے فرمودات سے ہٹ کر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں، زندگی کے کسی بھی شعبے میں جب ہم ان فرمودات کی مخالفت کرتے ہیں تو طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں، جب انسان کھانے پینے کی اشیاء میں اسلامی احکامات سے ہٹتا ہے تو اس کا نتیجہ خطرناک بیماریوں اور بہت سے پیچیدہ مسائل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ تو نتیجتا اکثربیماریوں کا ذمہ دار خود انسان ہے۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہرقسم کے مرض کے لئے ایک قسم کی دوا اور علاج تدبیری موجود ہے. 

صحت و تندرستی وہ نعمت ہے جس کی کوئی قیمت ادا نہیں کرسکتا۔ خداوند متعال نے ہمیں ایک تندرست و توانا بدن کی شکل میں جو نعمت عطاء کی ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنی صحت کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر انبیاء کرام اور اَئمہ علیہم السلام خاص کرامام رضا علیہ السلام نے صحت کے بارے میں بہت سی احادیث بیان کی ہیں۔ انہی احادیث کو اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

 

جڑی بوٹیوں سےمختلف بیماریوں کا علاج

طب اسلامی میں خاص کر طب امام رضا علیہ السلام میں جڑی بوٹیوں کی خاص اہمیت بیان کی گئی ہے۔ مختلف بیماریوں کےعلاج کے لئےجڑی بوٹیوں کے استعمال کے بارے میں تفصیلی بحث موجود ہے؛ لہذا طب امام رضا علیہ السلام کے نسخے پر عمل کرکے ہم مختلف قسم کی لاعلاج بیماریوں سے نجات پا سکتے ہیں[4]

جڑی بوٹیوں کے ذرئعے بہت سی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے سال بھرکے تمام موسموں کی بیماریوں سے نجات پانے کے لئے خاص نسخے بیان کئے ہیں جس کی تفصیل اس مختصر تحریرمیں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔ 

 

حجامہ (پچھنے لگوانا)

طب اسلامی کے مطابق حجامہ طب جسمانی کی تیسری ستون ہے جس کے لاتعداد فوائد بیان کئے گئے ہیں۔

حجامہ کے بارے میں امام رضاعلیہ السلام حضرت رسول اکرم ص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ پیامبراسلام ص نے فرمایا: «إن یکن فی شیء شفاء ففی شرطه الحجّام ٲو فی شربت العسل» اگر کسی چیز میں شفا ہے تو وہ حجام کے تیغ اور شہد کی شربت میں ہے۔[5]

حجامہ کھانا کھانے کے بعد انجام دینا چاہئے، کیونکہ جب انسان کا شکم سیرہوتا ہے تو خون کے ساتھ تمام بیماریاں بھی خارج ہوتی ہیں، لیکن بھوک اور خالی پیٹ کی حالت میں حجامہ کرنے سے صرف خون ہی خارج ہوتاہے اور بیماریاں بدن میں بدستور باقی رہتی ہیں۔

امام رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حجامہ کرو تو غسل کرنے سے پرہیزکیا کرو، البتہ حجامہ کے ایک گھنٹے بعد سر اوربدن پر تھوڑا سا گرم پانی ڈالنا اچھا ہے۔

اسی طرح امام رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں حجامہ کے بعد سرکہ کے ساتھ تھوڑی سی کاسنی کا استمعال نہایت مفید ہے اس عمل سے انسان جگر کے درد سے نجات پاتا ہے۔[6]

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں حجامہ کے لئے بہترین وقت، بہارکا موسم ہے جیسے کہ ارشاد ہے: «أمّا فَصْلُ الرَّبیعِ فَإنّهُ روُحُ الأزْمانِ ….» موسم بہار تمام زمانوں اور فصلوں کی روح ہے اس موسم میں خون جوش مارتا ہے لہذا اس موسم میں حجامہ کرنا نہایت مفید ہے۔[7]

 

فصد کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج

فصد کرنا، نشترلگانا (رگ زنی) اس میں جسم کے کسی خاص حصہ پر بلیڈ یا استرے یا کسی تیز دھاری دار چیز سے ہلکا سا چیرا دیا جاتا ہے اور پھر اس جگہ سے گندا خون کھینچ لیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ بہت سی بیماریوں کا کامیاب­علاج ہے؛حتى کہ جنون اور پاگل پن جیسی بیماریاں بھی اس طریقہ علاج سے چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔

امام رضا علیہ السلام رساله‏ ذهبیّه میں فصد کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

غسل کرنے کے بعد حجامہ اور فصد کی جگے کو ایک نرم کپڑے سے ڈھاپا جائے اور میوے کا عرق یعنی پھل کاجوس پی لیاجائے۔ اگریہ ممکن نہ ہوتو شربت تربخ پی لیا جائے جو نہایت فائدہ مند ہے اور اگر موسم سرما کا وقت ہوتو ایک گھونٹ گرم پانی پینا بہترہے۔ موسم گرما میں سکنجبین عسلی کا ایک گھونٹ پی لے، اس فعل سے اللہ تعالی خطرناک بیماریوں، خاص کر فالج، لقوہ، سفید داغ، کلف اور جذام وغیرہ کو دور فرمائے گا۔

امام رضا علیہ السلام ایک اور روایت میں فرماتے ہیں کہ حجامہ اور فصد کے بعد شربت انار پینے سے خون کی مقدار بڑھ جاتی ہےاورجسم میں چستی آجاتی ہے۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حجامہ اور فصد کے بعد کم سے کم تین گھنٹوں تک نمک والی غذاوں سے پرہیز کیا جائے۔

تحریر: ساجدہ جعفری

بشکریہ: شمس الشموس میگزین