رمضان کےتیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ اجْعَلْ صِيَامِي فِيهِ بِالشُّكْرِ وَالْقَبُولِ عَلَي مَا تَرْضَاهُ وَ يَرْضَاهُالرَّسُولُ

خدایا مجھے روزوں کی جزائے خیر عطا فرما اور میرے روزوں کو مقبول فرما۔

 پہلے دن ہم نے خدا سے صیام الصائمین(بھوک، تمام  اعضاء، ہمیشہ خدا کی یاد میں رہنے والے روزے) کی دعا کی تھی اور آج انہیں روزوں کی مقبولیت کی دعا کر رہے ہیں۔

مُحْكَمَهً فُرُوعُهُ بِالأُْصُولِ

  فروع دین کو اصول دین سے محکم فرما۔

جب ہم نماز اور روزہ رکھتے ہیں تو ان عبادات میں ہم اہل یقین ہوں اور تیری معرفت کے ساتھ تیری عبادت میں مشغول ہوں

  درخت پر پھل اُس وقت تک محفوظ  رہے گا جب تک وہ اپنی جڑوں سے جڑا ہوا ہوگا لیکن اگر اس کا تعلق  جڑ سے کٹ جائے تو وہ خشک اور بے فائدہ ہو جائے گا۔

 ہماری عبادتیں بھی جب تک اصول سے جڑی ہیں  تب تک میٹھے پھل کی طرح ہیں اور جب ہماری عبادت  صرف ادا  کرنے کی حد تک رہ جائے تو  وہ سوکھے پھل کی طرح بے فائدہ ہے۔

بِحَقِّ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِينَوَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ 

  پروردگار محمد و آل محمد کے واسطے ہماری دعاؤں کو مستجاب فرما۔