رمضان کےاٹھائیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

 

اَللَّهُمَّ وَفِّرْ حَظِّي فِيهِ مِنَ النَّوَافِلِ 

پروردگار مجھے زیادہ سے زیادہ نوافل کو پڑھنے کی توفیق عنایت فرما۔  کیوں کہ یہ نوافل ہمیں خدا سے قریب کر دیتے ہیں حدیث قدسی میں  خدا فرما رہا ہے  اگر بندہ فرائض کے علاوہ  نوافل کو بھی انجام دے تو مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اسے پسند کرتا ہوں اور جب میں اس کا محبوب ہو جاتا ہوں تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ کام کو انجام دیتا ہے اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ قدم اٹھاتا ہے جب مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے پورا کرتا ہوں  اور اگر وہ میرے پاس پناہ   لینے آتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں

وَأَكْرِمْنِي فِيهِ بِإِحْضَارِ الْمَسَائِلِ

 خدایا مجھے اپنے در پیش آنے والے حکم شرعی کا علم عطا کر انسان کا ہدف  قرب الی اللہ ہے۔ اس راستے پر چلنے سے پہلے ہمیں اس راستے کو جاننا ہوگا ورنہ بغیر معرفت کے ہمارے بھٹکنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔

وَ قَرِّبْ فِيهِ وَسِيلَتِي إلَيْكَ مِنْ بَيْنِالْوَسَائِلِ يَا مَنْ لاَ يَشْغَلُهُ إلْحَاحُالْمُلِحِّينَ 

 مجھے اس  وسیلے سے قریب کر جو تیرے پاس مجھے جلد پہنچا دے۔ اور اس دنیا میں قرب اللہ کا بہترین وسیلہ اہل بیت کی ذات ہے۔

 

اس ہدایت کے راستے میں کبھی بھی آئمہ سے توسل کو نہ بھولیں اور زندگی کے ہر موڑ پر ان سے متصل رہیں کہ یہ ہماری سعادت اور کامیابی کا ذریعہ ہیں۔