رمضان کےچھبیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ اجْعَلْ سَعْيِي فِيهِ مَشْكُورا

پروردگار اس ماہ میں میری ہر کوشش اور تلاش کو قبول فرما۔

 اس مہینے میں انسان بھوک و پیاس کو برداشت کرتا ہے، کم سوتا ہے۔ اگر خدا  ہماری یہ تلاش قبول نہ کرے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ ایسا نہ ہو ہماری  سعی و تلاش ضائع ہو  جائے۔ کہیں ایک غیبت ہماری زحمت کو ضائع نہ کر دے ہمیں اپنے  عیبوں کو ختم کرنا ہوگا تاکہ ہماری تلاش مقبول حق ہو۔

 حدیث میں ارشاد ہوا ہے انسان کو کیا ہوا ہے ایک چھوٹا کانٹا اپنے دوست کی آنکھ میں دیکھ لیتا ہے لیکن  شاخ جو اس کی آنکھ میں چلی گئی ہے نہیں دیکھ سکتا۔( لوگوں کے چھوٹے عیبوں کو دیکھ لیتا ہے لیکن اپنے  بڑے بڑے عیبوں کو نہیں دیکھ سکتا۔)

ً وَ ذَنْبِي فِيهِ مَغْفُوراً وَ عَمَلِي فِيهِ  مَقْبُولاً

 میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے عمل کو قبول فرما۔

خطبہ شعبانیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں تمہارے نفس تمہارے اعمال میں جکڑے ہوئے ہیں ، تو اس کو استغفار اور طلب بخشش کے ذریعے رہائی دلاو اور تمہاری پشتیں گناہوں کے بوجھ کی وجہ سے سنگین ہیں پس طولانی سجدوں کے ذریعے اس بار کو ہلکا کرو

یہ مہینہ معنویت کمانے کا مہینہ ہے اس مہینے میں اپنے بدنوں کو گناہوں سے آزاد کر دیں کہ گناہ ہمارے لئے زنجیر کی طرح ہیں جو ہماری توفیقات کو کم کردیتے ہیں  ہمیں اپنے آپ کو ہلکا کرنا ہوگا تاکہ جنت کی طرف پرواز کر سکیں ۔

وَ عَيْبِي فِيهِ مَسْتُوراً

 خدایا تو ستارالعیوب ہے یہ  بھی ایک نعمت ہے کیونکہ اگر گناہ کی بو ہوتی تو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہ بیٹھتے اور اگر سب کے عیب نمایاں ہوتے تو کوئی کسی کے جنازے کو دفن نہ کرتا۔

يَا أَسْمَعَ السَّامِعِينَ

 پروردگار تو ہر سننے والے سے زیادہ سننے والا ہے حضرت موسی علیہ السلام نے خدا سے کہا اگر نزدیک ہو تو میں آہستہ مناجات کروں اور اگر دور ہو تو بلند مناجات کروں تو خدا نے فرمایا میں اس کا ہم نشین ہو جو  مجھے  یاد کرتا ہے  پس اے وہ جو اسمع السامعین ہے ہماری دعا کو مستجاب فرما۔