رمضان کےپچیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِيهِ مُحِبّاً لأَِوْلِيَائِكَوَ مُعَادِياً لأَِعْدَائِكَ

خدایا اپنے محب سے دوستی اور اپنے دشمنوں سے دشمنی عطا فرما۔

حدیث میں ارشاد ہے کہ کوئی حقیقی ایمان تک نہیں پہنچ سکتا مگر یہ کہ وہ اپنے نزدیک ترین لوگوں سے خدا کی خاطر محبت نہ کرے کیونکہ وہ لوگ  دیندار نہیں اور  دور ترین افراد سے دوستی کرے کیونکہ وہ دیندار ہیں۔

 امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا اگر جاننا چاہتے ہو کہ جنتی ہو یا جہنمی تو اپنے دل کی طرف رجوع کرو اگر خدا کے مطیع بندوں کو پسند کرتے ہو تو جنتی اور اگر اہل معصیت کو پسند کرتے ہو تو جہنمی۔اور انسان قیامت میں اسی کے ساتھ محشور ہوگا جسے وہ پسند کرتا ہے۔

پروردگار ہمارے دلوں کو اہل بیت کی محبت اور ان کے دشمن کی نفرت سے بھر دے۔

مُسْتَنّاً بِسُنَّهِخَاتَمِ أَنْبِيَائِكَ يَا عَاصِمَ قُلُوبِالنَّبِيِّينَ

 ہم خدا سے مدد مانگ رہے ہیں کہ جو پیغمبر کی سنت( مستحب بات واجبات دعاؤں میں) ہیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرمائے جو کچھ بھی پیغمبر نے فرمایا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق دے