رمضان کےچوبیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِيهِ مَا يُرْضِيكَوَ أَعُوذُ بِكَ مِمَّا يُؤْذِيكَ

آج کی دعا میں ہم خدا سے چند درخواست کر رہے ہیں۔

جو چیز تیری رضامندی لاتی ہے تو اسے عطا فرما۔

 اور جو چیزیں تیرے نزدیک نا پسند ہیں ان سے دور فرما۔

 ہم اس مہینے میں چند بار خدا سے ایسے امور کی درخواست کر رہے ہیں جو خدا کی رضایت کو لاتے ہوں۔ بس رضایت خدا ایک بہت اہم درپیش مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی خدا کی رضا چاہتے ہیں تو خدا کے سامنے "کیوں" کو اپنی زندگی سے نکال دینا ہوگا کیونکہ یہ "کیوں" ہے جو ہماری خدا سے ناراضگی کی علامت ہے۔(کیوں مجھے ایسا کیا، کیوں اسے یہ سب دیا)

 وہی بات کہ ہماری مثال مریض جیسی اور خدا کی مثال طبیب جیسی ہے۔( دن کی دعا کی تفسیر)

وَ أَسْأَلُكَ التَّوْفِيقَ فِيهِ لأَِنْأُطِيعَكَ وَ لاَ أَعْصِيَكَ

 خدایا اپنی اطاعت اور  معصیت سے دور رہنے کی توفیق عنایت فرما۔

 امام جواد علیہ السلام نے فرمایا: مومن کے اندر تین خصوصیات ہونی چاہیے:

توفیق خداوند کی جانب سے عنایت ہوتی ہے:کیوں کہ اگر خدا کی طرف سے توفیق نہ ہو تو جتنا بھی علم جتنی بھی نعمت ہو اس کو خدا سے قریب نہیں کر سکتی۔ یہ توفیق ہے جو علم کے ساتھ عمل، مال کے ساتھ انفاق، قدرت کے ساتھ مظلوموں کی حمایت لاتی ہے۔

 اپنے آپ کو نصیحت کرتا ہے۔

 اگر کوئی نصیحت کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہے۔

يَا جَوَادَالسَّائِلِينَ

 اے وہ جو سائلین کے ساتھ بخشش کرتا ہے۔

ہم کبھی سمجھتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی لیکن یہ ظاہری بات ہے کہ وہ مانگنا ہماری صلاح میں نہیں ہوتا لیکن خدا قیامت میں ان دعاؤں کا بدلہ دیتا ہے۔

حدیث میں ارشاد ہوا ہے انسان کے نامہ اعمال میں جو دعائیں مستجاب نہیں ہوئی ہیں اس کے بجائے نیک اعمال لکھے جائیں گے جس سے وہ دعا کرنے والا بھی  لا علم ہوگا۔ اور پھر خطاب ہوگا  یہ اجر ان دعاؤں کے بدلے ہے جو تو نے مانگی تھی اور مصلحت کی وجہ سے عطا نہ ہوئی تو وہ مومن آرزو کرے گا اے کاش میری کوئی دعا مستجاب نہ ہوئی ہوتی اور سب  کا ثواب مجھے آخرت میں ملتا۔