رمضان کےتیئسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ اغْسِلْنِي فِيهِ مِنَ الذُّنُوبِ

خدا  مجھے گناہوں سے پاک فرما۔جب ہم دعوت میں جاتے ہیں تو اپنے آپ کو پاک اور صاف کر کے جاتے ہیں۔ ماہ رمضان بھی خدا کی دعوت کا مہینہ ہے۔ کیا اس عظیم دعوت کے لیے ہم اپنے آپ کو معنوی آلودگی سے پاک نہیں کریں گے؟ یا اپنے زنگ آلود دلوں کو صاف نہیں کریں گے؟ یہ ضیافت ختم ہونے والی ہے خدا اگر اب تک ہم اپنے آپ کو پاک نہیں کر سکے؛ تو خدا تو ہی توفیق دے کہ اس ضیافت میں ہم اپنے آپ کو پاک و صاف کر سکیں۔

 پانی بدن کی آلودگی کو پاک کرتا ہے۔ لیکن اس کے لئے پاک ہونے والے  کے ارادے کی بھی ضرورت ہے۔ خدا بھی ہمارے گناہوں کو پاک کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے آپ کو پاک اور صاف کرنے کا ارادہ کرنا ہوگا۔

وَطَهِّرْنِي فِيهِ مِنَ الْعُيُوبِ

 پروردگار مجھے اپنے عیبوں سے پاک فرما۔ کیونکہ معیوب عمل خدا کی بارگاہ سے رد ہو جاتا ہے۔ خدایا ہمارے اعمال کو تکبر، ریا، حسد وغیرہ سے محفوظ فرما۔ کیونکہ یہ عیب ہیں جو ہمارے نیک اعمال کو آسمانوں پر جانے سے روک دیتے ہیں۔ 

وَ امْتَحِنْ قَلْبِي فِيهِ بِتَقْوَي الْقُلُوبِيَا مُقِيلَ عَثَرَاتِ الْمُذْنِبِينَ

 جو کوئی بھی تقویٰ رکھتا ہے قیامت میں اس کا مقام بہت اونچا ہوگا کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں خدا کی نافرمانی نہیں کی۔

 کچھ چیزیں دین میں لال بتی (ترک محرمات) کا حکم رکھتی ہے۔ اور لال بتی سے نہ گزرنا تقویٰ ہے کبھی انسان چالان کے خوف سے اور کبھی قانون کا احترام کرتے ہوئے لال بتی سے نہیں گزرتا اور یہ قانون کا احترام کرنا افضل ہے انسان اگر محرمات سے خدا کی وجہ سے بچتا ہے۔ تو اس تقوی کا مقام بالا تر ہے اس سے جو جہنم کے خوف سے تقویٰ اختیار کرتا ہے۔