رمضان کےبائیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ افْتَحْ لِي فِيهِ أَبْوَابَ فَضْلِك

پروردگار اپنے فضل و کرم سے ہم سے حساب کتاب کرتا ہے۔ اگر اپنے عدل سے حساب کتاب کرے تو ہمارا بہت برا حال ہو گا۔

 قرآن میں ارشاد رب العزت ہے ہر برا حادثہ تمہارے اعمال کے سبب ہے۔ البتہ خدا بہت سے ہمارے برے کاموں کو نظرانداز کردیتا ہے یہ فضل خدا ہے۔

 خدایا آج کے دن ہم پر اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔

 

وَ أَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ بَرَكَاتِكَ

 خدا اپنی برکتیں نازل فرما۔

 جب ہم پر خدا کے فضل و کرم کے دروازے کھل جائیں گے تو خدا کی برکتیں بھی ہم پر نازل ہونا شروع ہو جائیں گی۔

 برکات، مادی بھی ہیں اور معنوی بھی

 برکتِ مادی یعنی ساری نعمتیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہیں۔

 اور برکاتِ معنوی وہ نعمت جو ہمیں تقرب الہی حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے؛ جیسے توبہ، استغفار، ذکر، دعا۔

 آج کے دن ہم خدا سے مادی اور معنوی دونوں برکتوں کو مانگ رہے ہیں۔

وَ وَفِّقْنِي فِيهِ لِمُوجِبَاتِ مَرْضَاتِكَ

 خدایا مجھے ایسے عمل کی توفیق عنائت فرما جس میں تیری رضا شامل ہو اور خدا کی رضایت اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہے۔ 

وَ أَسْكِنِّي فِيهِ بُحْبُوحَاتِ جَنَّاتِكَ يَا مُجِيبَ دَعْوَهِ الْمُضْطَرِّينَ

خدایا ہماری سکونت جنت کے مرکز میں ہو۔ شاید جنت کے مرکز اور بیچ میں اولیاء الہی کی سکونت ہو کہ ہم خدا سے ایسی دعا مانگ رہے ہیں کہ اپنے اولیاء کے جوار میں سکونت عطا فرما۔