رمضان کےبیسویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ افْتَحْ لِي فِيهِ أَبْوَابَ الْجِنَانِ

خدایا ہمارے لیے جنت کے دروازے کھول دے۔

 یہاں پر جنت کے دروازے کھول دینے سے مراد یہ ہے کہ خدایا اپنی عمر میں ہم نے جتنے بھی گناہ کیے ہیں اس سے ہمیں پاک صاف فرما اور ہماری نیکیوں میں اضافہ فرما کیونکہ جو انسان گنہگار ہوگا اور نیکیوں سے دور اس پر جنت کے دروازے نہیں کھلیں گے بلکہ  جہنم اس  کی منتظر ہوگی۔

وَ أَغْلِقْ عَنِّي فِيهِ أَبْوَابَ النِّيرَانِ

 اور خدایا جہنم کے دروازے ہم پر بند فرما دے

 سورۃ توبہ آیت  64 سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے جو خدا اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں بس اس دعا میں ہم خدا سے اس کی اطاعت اور اس کے رسول کی پیروی کو مانگ رہے ہیں کہ یہ دو چیزیں ہمیں جہنم میں جانے سے روک سکتی ہیں۔ 

وَ وَفِّقْنِي فِيهِ لِتِلاَوَهِ الْقُرْآنِ يَا مُنْزِلَ السَّكِينَهِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِين

 آج کے دن ہم خدا سے تلاوت قرآن کی توفیق مانگ رہے ہیں اس خدا سے جو اہل ایمان کے دلوں میں  سکون ڈالتا ہے۔

 رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تلاوت قرآن سے اپنے گھروں کو منور کرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ کرو جس طرح یہود اور نصاری نے کیا اپنی عبادت گاہوں میں نماز پڑھی لیکن اپنے گھروں میں کچھ نہ کیا جب کسی گھر میں زیادہ تلاوت قرآن ہوتی ہے تو وہ اس گھر کے لئے خیر و برکت کا باعث بنتی ہے اور وہ گھر آسمان والوں کے لئے چمکتا ہے جیسے ستارے زمین والوں کے لیے چمکتے ہیں۔