رمضان کےسترہویں دن کی دعا کے پیغامات اور تشریح

اَللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيهِ لِصَالِحِ الأَْعْمَالِ

ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں خدا ہمیں عطا کرنا چاہتا ہے اس لیے ہمارے سونے کو بھی ثواب قرار دیا ہے لیکن ہم خدا سے عمل صالح کی توفیق مانگ رہے ہیں کہ درست ہے ہمارا سونا عبادت ہے لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ ہم اپنا وقت سونے میں گزار دیں بلکہ  اس ماہ سے فائدہ اٹھائیں اور سحر کے خاص وقت کو اپنے  ہاتھ سے نہ جانے دیں، قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں۔  اور ہر لمحے کے بہترین عمل کو انجام دینے کی تلاش اور کوشش کرتے رہیں۔

وَاقْضِ لِي فِيهِ الْحَوَائِجَ

 پروردگار آج کے دن میری تمام جائز حاجات اور ضرورتوں کو پورا فرما لیکن اس دعا کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ ہم  صرف خدا پرامید رکھیں اور غیر خدا سے امید نہ لگائیں اس کے علاوہ ہم اولیاء الہی سے بھی متوسل ہو سکتے ہیں  آغا مجتہدی فرماتے ہیں اگر کوئی قرآن تم کرے اور اس کو حضرت نرجس خاتون کو ہدیہ کریں اس کی حاجت  پوری ہوجائے گی بی بی نرجس خاتون ہمارے وقت کے امام کی والدہ ہیں اور امام اپنی والدہ کی درخواست کو رد نہیں کرینگے۔

 وَ اﻵْمَالَ يَامَنْ لاَ يَحْتَاجُ إلَي التَّفْسِيرِ وَ السُّؤَالِ يَا عَالِماً بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَصَلِّ عَلَي مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِينَ 

خدا تو ہی وہ ذات ہے جسے مجھے اپنی حاجت کو بیان کرنے  کی ضرورت نہیں۔ تو ہماری زندگی کے ہر لمحے سے واقف ہے اور ہماری بہت سی حاجتوں کو ہمارے زبان پر لانے سے پہلے عطا کردیتا ہے ماہ رجب کی ہر دعا میں ہم خدا کو اسی طرح پکار رہے ہیں اے خدا کہ جو عطا کرتا ہے اس  کی حاجت کو جو تجھ سے درخواست کرتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جس نے تجھ سے درخواست بھی نہیں کی۔