ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 17

نماز شب چہرے کو حسین بنا دیتی ہے، اور خُلق و مزاج کو خوبصورت کر دیتی ہے، اور بدن کو معطر اور خوشبو کردیتی ہے، اور رزق و معاش اتار دیتی ہے، اور غم و اندوہ کو زائل کرتی ہے اور آنکھوں کو روشنی عطا کرتی ہے"۔

 رمضان کا سترہواں نکتہ: شب بیداری اور تہجد

دنیاوی زندگی کی حقیقت

شب بیداری کی فضیلت

1۔ مقام محمود کا حصول

خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:

"وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً؛ (1)

اور آپ رات کے ایک حصے میں نماز تہجّد پڑھئے تاکہ آپ کے لئے نافلہ [اور اضافہ] ہو، نزدیک ہے کہ کہ آپ کو آپ کا پروردگار مقام محمود [قابل تعریف موقف] پر کھڑا کر دے"۔

2۔ رسیدن به رحمت الهی

خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:

"أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاء اللَّيْلِ سَاجِداً وَقَائِماً يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ؛ (2)

آیا [کفر برتنے والا بہتر ہے یا وہ] جو عبادت کرنے والا ہے راتے کی گھڑیوں میں سجدے کی حالت میں عبادت کرتا ہے اور حالت قیام میں جبکہ وہ آخرت سے خائف ہے؛ اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے؟، کہئے کہ کیا برابر ہیں وہ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے؟"۔

...

بقول سعدی شیرازی:

شب تاریک دوستان خدای

می بتابد چو روز رخشنده

وین سعادت به زور بازو نیست

تا نبخشد خدای بخشنده

ترجمہ:

خدا کے دوستوں کی اندھیری رات بھی

روز روشن کی طرح چمکتی ہے

اور یہ سعادت و خوش بختی زور بازو سے ہاتھ نہیں آتی

جب تک نہ بخشے گا بخشنے والا خدا

آثار نماز شب

1. رزق میں اضافہ

امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:

"صَلاةُ اللَّیُلِ تُحْسِنُ الْوَجْهَ وَتُحْسِنُ الْخُلْقَ وَتُطِیْبُ الرّیْحَ وَتُدِرُّ الرِّزْقَ وَتَقْضِي الدَّيْنَ وَتَذْهَبُ بالْهَمِّ وَتَجْلُو الْبَصَرَ؛ (3)

نماز شب چہرے کو حسین بنا دیتی ہے، اور خُلق و مزاج کو خوبصورت کر دیتی ہے، اور بدن کو معطر اور خوشبو کردیتی ہے، اور رزق و معاش اتار دیتی ہے،  اور غم و اندوہ کو زائل کرتی ہے اور آنکھوں کو روشنی عطا کرتی ہے"۔

2. نماز شب کے ثمرات

امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اپنے آباء و اجداد سے، انھوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے، نقل کیا کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"صَلاَةُ اَللَّيْلِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ وَحُبُّ اَلْمَلاَئِكَةِ وَسُنَّةُ اَلْأَنْبِيَاءِ وَنُورُ اَلْمَعْرِفَةِ وَأَصْلُ اَلْإِيمَانِ وَرَاحَةُ اَلْأَبْدَانِ وَكَرَاهِيَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَسِلاَحٌ عَلَى اَلْأَعْدَاءِ وَإِجَابَةٌ لِلدُّعَاءِ وَقَبُولٌ لِلْأَعْمَالِ وَبَرَكَةٌ فِي اَلرِّزْقِ وَشَفِيعٌ بَيْنَ صَاحِبِهَا وَبَيْنَ مَلَكِ اَلْمَوْتِ وَسِرَاجٌ فِي قَبْرِهِ وَفِرَاشٌ مِنْ تَحْتِ جَنْبَيْهِ وَجَوَابُ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ وَمُونِسٌ وَزَائِرٌ فِي قَبْرِهِ؛ (4)

نماز شب پروردگار کی خوشنودی اور فرشتوں کی دوستی، اور انبیاء کی سنت، اور معرفت کی روشنی، اور ایمان کی جڑ، اور ابدان (جسموں) کی آسودگی کا سبب ہے؛ شیطان کے ہاں ناپسندیدہ، اور دشمنوں کے خلاف ہتھیار، اور دعا کی قبولیت کا سبب، اور بندوں کے اعمال کی قبولیت، اور رزق و معاش میں برکت، نماز گزار اور ملک الموت کے درمیان شفاعت کرنے والی، اور قبر میں چراغ اور اس کے پہلؤوں کے نیچے کا بستر، اور منکر و نکیر کا جواب اور ہمراہ و انیس [و ہم نشین] ہے، جو قبر میں نمازگزار کی زیارت کے لئے آتی ہے۔

3۔ قیامت میں نماز شب کا کردار مذکورہ بالا حدیث کا تسلسل

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"فَإِذَا كَانَ يَوْمُ اَلْقِيَامَةِ كَانَتِ اَلصَّلاَةُ ظِلاًّ عَلَيْهِ وَتَاجاً عَلَى رَأْسِهِ وَ لِبَاساً عَلَى بَدَنِهِ وَنُوراً يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ وَسِتْراً بَيْنَهُ وَبَيْنَ اَلنَّارِ وَحُجَّةً لِلْمُؤْمِنِ بَيْنَ يَدَيِ اَللَّهِ تَعَالَى وَثِقْلاً فِي اَلْمَوَازِينِ وَجَوَازاً عَلَى اَلصِّرَاطِ وَمِفْتَاحاً لِلْجَنَّةِ لِأَنَّ اَلصَّلاَةَ تَكْبِيرٌ وَتَحْمِيدٌ وَتَسْبِيحٌ وَتَمْجِيدٌ وَتَقْدِيسٌ وَتَعْظِيمٌ وَقِرَاءَةٌ وَدُعَاءٌ وَأَنَّ أَصْلَ اَلْأَعْمَالِ كُلَّهَا اَلصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا؛ (5)

پر ہرگاہ قیامت بپا ہوجائے، نماز شب نمازگزار کے اوپر سایہ اور اس کے سر پر تاج اور اس کے جسم پر لباس بن کر رہے گی، اور وہ نور جو چمکے گا اس کے سامنے اور حجاب جو حائل ہوگا نمازگزاروں اور دوسرے لوگوں کے درمیان، اور [نماز شب] حجت ہوگی مؤمنوں کے لئے خدائے متعال کے حضور، اور میزان کے بھاری پن کا سبب اور صراط سے گذرنے کا باعث اور جنت کی کنجی؛ کیونکہ نماز تکبیر اور حمد و تسبیح و تمجید اور تقدیس و تعظیم اور قرا‏ئت و دعا ہے اور بےشک تمام عبادتوں کی جڑ وہ ماز ہے جس کو اپنے مقررہ وقت میں بجا لایا جاتا ہے"۔

*۔ الدیلمی، وہی ماخذ، [مذکورہ حدیث کا تسلسل)۔

بقول اقبال:

تاک خویش از گریه های نیمه شب سیراب دار

کز درون او شعاع آفتاب آید برون

ترجمہ:

اپنی [انگور کی] بیل کو نیم شب کی آہ و بکاء سے سیراب کر

کیونکہ اس کے اندر سے آفتاب کی کرنیں باہر آکر چمکتی ہیں

...

بقول مولانا روم:

چون خدا خواهد که مان یاری کند

میل مان را جانب زاری کند

ای خدا زاری ز تو مرهم ز تو

هم دعا از تو اجابت هم ز تو

ترجمہ:

جب خدا ہماری مدد کرنا چاہتا ہے

ہماری رغبت آہ و زاری کی طرف راغب کر دیتا ہے

اے خدا تیری درگاہ میں آہ و زاری تیری طرف کا مرہم ہے

دعا بھی تیری طرف سے ہے استجابت بھی تیری طرف سے

...

رحمتم موقوف آن خوش گریه هاست

چون گریست از بحر رحمت موج خاست

ترجمہ:

میری رحمت موقوف ہے اچھا رونے والوں پر

جب روتے ہیں رحمت کی خاطر، لہر اٹھتی ہے

...

هر که او بیدارتر، پر دردتر

هر که او آگاه تر، رخ زردتر

ترجمہ:

جو بیدارتر ہوگا، اس کے دل میں درد بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا

جو زیادہ آگاہ ہوں، اس کا چہرہ اتنا ہی زرد ہوگا

...

پیش حق یک ناله از روی نیاز

به که عمری بی نیاز اندر نماز

ترجمہ:

درگاہ حق تعالی میں ایک نیازمندی کی ایک آہ

بہتر ہے شخص پوری عمر نیازمندی بنا نماز میں مصروف رہے

...

شیعہ کی نشانی

"امام سجاد علی بن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) بیت اللہ الحرام میں بیٹھے تھے کہ آپ کی کنیز نے عرض کیا: اے میرے مولا! کچھ لوگ آپ کے گھر میں آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کے شیعہ ہیں اور داخلے کا اجازت مانگ رہے ہیں۔ امام یہ سن کر خوش ہوئے اور تیزی سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے، اور قریب تھا کہ منہ کے بل گر جاتے۔ سلام اور حال احوال پوچھنے کے بعد آپ نے ان کے چہروں کو غائرانہ نگاہ سے دیکھا، اور کچھ کہے بغیر گھر کی اندرونی میں واپس چلے گئے اور فرمایا: "یہ لوگ ہمارے شیعہ نہیں ہیں۔ [کیونکہ] ہمارا شیعہ اپنے چہرے پر عبادت کے آثار سے پہچانا جاتا ہے؛ اس کی پیشانی میں سجے کا نشان واضح ہے اور نصف شب کی عبادت کی کثرت کی وجہ سے اس کے چہرے کی رنگت زرد ہؤا کرتی ہے؛ اور جب تمام لوگ میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں، وہ اپنے معبود کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف رہتا ہے؛ لیکن یہ لوگ ان اوصاف کے حامل نہیں ہیں"۔ (6)

 

...................

تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

...................

1۔ سورہ بنی اسرائیل، آیت 79۔

2۔ سورہ زمر، آیت 9۔

3۔ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج5، ص272؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج84، ص153۔

4۔ حسن بن محمد الدیلمی، إرشاد القلوب، ج1، ص191۔

5۔ الدیلمی، وہی ماخذ۔

6۔ بلاغۃ علی بن الحسین علیہما السلام، ص54۔