ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 16

اس دنیا کی مثال اس سانپ کی سی ہے جو چھوتے وقت نرم ہے لیکن اس کے اندر زہرِ ہلاہل بھرا ہوتا ہے؛ فریب خوردہ جاہل اس کی طرف راغب ہوجاتا ہے اور صاحب ہوش عقلمند انسان اس سے ہوشیار [اور بچ کر] رہتا ہے"۔

 رمضان کا سولہواں نکتہ: دنیاوی خواہشیں اور دنیا پرستی

دنیا کی زندگانی

1۔ دنیاوی زندگی کی حقیقت

خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:

"اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرّاً ثُمَّ يَكُونُ حُطَاماً وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ؛ (1)

جان لو کہ یہ دنیاوی زندگی بس کھیل، تفریح میں محویت، بناؤ سنگھار، آپس میں ایک دوسرے پر فخر (و غرور)، ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مال اور اولاد میں افزائش (اور زیادت) کی کوشش ہے۔ اس بارش کی طرح جس سے حاصلہ پیداوار کے نباتات بونے والوں (یعنی کسانوں) کو پسند آئے، پھر وہ پژمردہ ہونے لگے اور تم انہیں زرد رنگ میں دیکھتے ہو، پھر وہ سوکھ کر چورا ہو جائے؛ اور آخرت میں سخت عذاب ہے (طاغیوں باغیوں کے لئے) اور بخشش ہے اللہ کی طرف سے اور ثواب ہے (اطاعت گزاروں کے لئے) اور دنیاوی زندگی بجز سامانِ فریب، کچھ بھی تو نہیں ہے"۔

2. متاعِ فریب

خدائے متعال نے فرمایا:

"زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا؛ (2)  

لوگوں کے لئے دل آویز بنائی گئی ہے لذائذ نفس کی محبت جیسے عورتیں، بچے، سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے ذخیرے، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، مویشیوں کے ریوڑ اور کھیتی باڑی؛ یہ ہے اثاثہ اس دنیاوی زندگی کا"۔

3۔ حَسِین اور پُر نقش و نگار سانپ

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

"مَثَلُ الدُّنْيَا كَمَثَلِ الْحَيَّةِ لَيِّنٌ مَسُّهَا وَالسَّمُّ النَّاقِعُ فِي جَوْفِهَا يَهْوِي إِلَيْهَا الْغِرُّ الْجَاهِلُ وَيَحْذَرُهَا ذُو اللُّبِّ الْعَاقِلُ؛ (3)

اس دنیا کی مثال اس سانپ کی سی ہے جو چھوتے وقت نرم ہے لیکن اس کے اندر زہرِ ہلاہل بھرا ہوتا ہے؛ فریب خوردہ جاہل اس کی طرف راغب ہوجاتا ہے اور صاحب ہوش عقلمند انسان اس سے ہوشیار [اور بچ کر] رہتا ہے"۔

4۔ سرائے گذر

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

"الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ وَالنَّاسُ فِيهَا رَجُلَانِ رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَهُ فَأَوْبَقَهَا وَرَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَهُ فَأَعْتَقَهَا؛ (4)

دنیا [اصل منزلِ قرار «آخرت» کے لئے]  سرائے گذر [راستے میں واقع قیام گاہ] ہے۔ اس میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ جنہوں نے اس اپنے آپ کو بیچ ڈالتے اور ہلاک [و نابود] کردیتے ہیں اور دوئم وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ [اپنے نفس] کو خرید کر آزاد کردیتے ہیں"۔  

امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) دنیا سے دوری کی مثالی شخصیت

امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے ایک قریبی ساتھی نے نقل کیا:

"ایک مرتبہ امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کربلائے معلی مشرف ہوئے تھے، ہم کسی کام سے آپ کے گھر کے اندر چلے گئے۔ مجھے تجسس ہؤا کہ دیکھ لوں کہ امام کے گھر میں رکھے ہوئے ریفریجریٹر کے اندر کیا ہے؟ چنانچہ میں نے ریفریجریٹر کو کھول دیا اور دیکھا کہ تھوڑے سے پنیر اور تربوز کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے...

ابتداء میں جب امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) نجف اشرف آئے تھے، تو نجف کی ناقابل برداشت گرمی کے باوجود، آپ ہمیں اپنی رہائش گاہ کے لئے ٹھنڈا کرنے والا کوئی وسیلہ نصب کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور ہمیں زندگی کی نہایت معمولی چیز خریدنے کے لئے بہت زیادہ اصرار کرنا پڑتا تھا"۔ (5)

...

بقول سعدی شیرازی:

جهان ای برادر نماند به کس

دل اندر جهانْ آفرین بند و بس

مکن تکیه بر ملک دنیا و پشت

که بسیار چون تو پرورد و کشت

چو آهنگ رفتن کند جان پاک

چه بر تخت مردن چه بر روی خاک

ترجمہ:

دنیا نہیں رہتی ہے اے برادر کسی کے لئے

اپنا دل خالق عالم سے باندھ لینا اور بس

دنیا کی حکومت پر بھروسہ مت کر

کیونکہ اس نے تیرے جیسے بہت سوں کو پالا اور مار ڈالا

جب انسان کی جان پاک جانے کا عزم کرے

خواہ تخت پر خواہ مٹی کے اوپر، مرنا برابر ہے

...

حب دنیا کے بعض نتائج

1۔ منفی وابستگیاں

امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:

"مَنْ تَعَلَّقَ قَلْبُهُ بِالدُّنْيَا تَعَلَّقَ قَلْبُهُ بِثَلَاثِ خِصَالٍ: هَمُّ لَا يَفْنَى وَأَمَلٍ لَا يُدْرَكُ وَرَجَاءٍ لَا يُنَالُ؛ (6)

جس آدمی کا دل دنیا سے وابستہ ہؤا، اس کا دل تین چیزوں سے وابستہ ہؤا: ایسا غم و اندوہ جو کبھی ختم نہیں ہوتا؛ ایسی خواہش و آرزو جو کبھی حاصل نہيں ہوتی؛ اور ایسی امید جو کبھی بھی ہاتھ نہيں آئے گی"۔

2۔ خوفِ آخرت کا چلا جانا

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"مَنْ أَحَبَّ الدُّنْيَا ذَهَبَ خَوْفُ الْآخِرَةِ مِنْ قَلْبِهِ؛ (7)

جس شخص نے دنیا کی محبت اختیار کرلی، آخرت کا خوف اس کے دل سے چلا جاتا ہے"۔

...

چھٹی صدی ہجری کے شاعر جمال الدین محمد عبدالرزاق کے بقول:

الحذار ای غافلان زین وحشت آباد الحذار!

الفرار ای عاقلان زین دیو مردم الفرار!

عرصه­ای نا دلگشا و بقعه­ای نا دل پسند

خانه­ای نا سودمند و تربتی ناسازگار

مرگ در وی حاکم و آفات در وی پادشاه

ظلم در وی قهرمان و فتنه در وی پیشکار

ترجمہ:

خبردار، اے غافلو، اس "وحشت آباد" (دنیا) سے، خبردار!

بھاگ جاؤ اے عاقلو! ان دیو جیسے لوگوں سے بھاگ جاؤ

[یہ دنیا] ایک بدقسمت میدان اور ایک ناخوشگوار مقبرہ ہے

ایک بےکار گھر اور ایک ناسازگار [بنجر] مٹی

موت کی اس میں حکمرانی اور آفات کی بادشاہی ہے

ظلم اس میں سورما ہے اور فتنہ میں [ظلم کا] خادم ہے۔  

...................

تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

...................

1۔ سورہ حدید، ص20۔

2۔ سورہ آل عمران، آیت 3۔

3۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام)، نہج البلاغہ، حکمت نمبر 119۔

4۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج78، ص4۔

5۔ سید احمد خمینی، فرازہایی از ابعاد روحی، اخلاقی و عرفانی امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ)،  ص 73۔

6۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج73، ص241۔

7۔ علامہ مجلسی، وہی ماخذ، ج6، ص38۔