ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 15

میری محبت [اور دوستی] میری امت کے خون میں گھل مل گئی ہے۔ اسی بنا پر وہ مجھے اپنے باپوں اور ماؤں پر بھی اور اپنے آپ پر بھی مقدم رکھتے ہیں"۔

 رمضان کا پندرہواں نکتہ: حب اہل بیت (علیہم السلام)

حب اہل بیت (علیہم السلام) کی اہمیت

1۔ حب اہل بیت (علیہم السلام) کا سبب

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"حُبِّي خَالِطٌ دِمَاءَ أُمَّتِي مِنهَا يُؤْثِرُوْنَنِي عَلَى الْآبَاءِ وَعَلَى الأُمَّهَاتِ وَعَلَى أنْفُسِهِمْ؛ (1)

میری محبت [اور دوستی] میری امت کے خون میں گھل مل گئی ہے۔ اسی بنا پر وہ مجھے اپنے باپوں اور ماؤں پر بھی اور اپنے آپ پر بھی مقدم رکھتے ہیں"۔

2۔ مؤمن کے عمل نامے کا عنوان

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"عُنوانُ صَحِيفَةِ المُؤْمِنِ حُبُّ عَلَیِّ بنِ أبي طَالِبٍ؛ (2)

مؤمن کے عمل نامے کا عنوان (اور شہ سرخی) علی بن ابی طالب (علیہما السلام) کا حُبّ ہے"۔

حب اہل بیت (علیہم السلام) کی پاداش

1۔ امن و امان بروز قیامت

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"مَنْ أحَبَّنَا أهْلَ البَيْتِ حَشَرَهُ اللهَ آمِناً يَوْمَ الْقِيَمَةِ؛ (3)

جو ہم اہل بیت کا حب دار ہوگا [اور ہمیں دوست رکھے گا] خدائے متعال بروز قیامت اسے [دوزخ کی آگ سے] محفوظ کرکے محشور فرمائے گا"۔

2۔ موت کی سات گذرگاہوں میں امن و امان

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"حُبّي وَحُبُّ أهْلِ بَيْتي نَافِعٌ فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ أهْوَالُهُنَّ عَظيْمَةٌ: عِنْدَ الوَفَاةِ ، وَفِي القَبْرِ وَعِنْدَ النُّشُوْرِ وَعِنْدَ الكِتَابِ وَعِنْدَ الحِسَابِ وَعِنْدَ الْمِيْزَانِ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ؛ (4)

میری محبت اور میرے اہل بیت (علیہم السلام) کی محبت، سات نہایت ہولناک مقامات پر میں نفع پہنچاتی ہے: مرتے وقت، قبر میں، بوقت نشور (دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت]، عمل نامہ وصول کرتے وقت، حساب کے وقت، میزان کے پاس اور صراط سے گذرتے وقت"۔

شیعہ یا اہل بیت (علیہم السلام) کا دوست

ایک شخص نے امام حسن مجتبی (علیہم السلام) سے عرض کیا: "میں آپ کا شیعہ ہوں"۔

امام نے فرمایا: "اے بندہ خدا! اگر تم ہمارے اوامر اور نواہی کے مطیع ہو، تو تم نے سچ کہا ہے ورنہ محض دعوی کرکے تم نے اپنے گناہوں میں اضافہ کیا ہے؛ کیونکہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکے ہو اور تمہیں ایسا دعوی بھی نہیں کرنا چاہئے؛ چنانچہ یہ نہ کہو کہ "میں آپ کا شیعہ ہوں"، بلکہ کہہ دو کہ "میں آپ کے حبداروں کا محبّ ہوں اور آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں؛ اس صورت میں تم اچھے ہو اور اچھائی کی طرف روں دواں ہو"۔ (5)

حب اہل بیت (علیہم السلام) سے شفا یابی

آیت اللہ العظمی سید حسین بروجری (رحمۃ اللہ علیہ) نے فرمایا ہے:

"میں جس وقت اپنے آبائی شہر بروجرد میں رہائش پذیر تھا، تو کچھ مدت کے لئے میری آنکھیں دھندلاہٹ سے دوچار (dim) ہوچکی تھیں اور بہت دکھ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ عاشورا کے دن - جبکہ ماتم و عزا کے دستے نکل چکے تھے اور عزاداروں نے سوگ و عزا کی علامت کے طور پر گارا اپنے سروں پر مل لیا تھا ۔ میں نے ایک بچے کے سر سے تھوڑا سا گارا اٹھا کر اپنی آنکھوں پر مل لیا، جس کی برکت سے میری آنکھوں کی روشنی پلٹ آئی اور تکلیف زائل ہوئی"۔ (6)

...................

تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

...................

1۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج16، ص342۔

2۔ علامہ مجلسی، وہی ماخذ، ج27، ص142 و ج39، ص229۔

3۔ علامہ مجلسی، وہی ماخذ، ج27، ص79۔

4۔ شیخ صدوق، الخصال، قم ، انتشارات جامعه مدرسین، 1403 ق ، ص 360؛ بحار الانوار، ج7، ص 248۔

5۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 65، ص 156۔

6۔ رضا مختاری، کتاب سیمای فرزانگان، ص190۔