ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 9

توکل کے معنی یہ نہیں ہیں کہ تم کچھ بھی نہ کرو، اپنے وجود کی قوتوں کو معطل رکھو اور ایک کونے میں بیٹھ کر اور خدا پر اعتماد و توکل کے نعرے لگاؤ اور امید رکھو کہ خدا خود ہی تمہارے فرائض انجام دے گا! کام کاج اور چلنے پھرنے سے اجتناب اور ساکن اور متوقف ہونے کی صورت میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے

 رمضان کا نواں نکتہ: خدا پر توکل

توکل کی اہمیت اور ضرورت

1۔ توکل صرف خدا پر

"وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَكَلِ المُؤمِنُونَ؛ (1)

اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر توکل (بھروسہ) کرنا چاہئے"۔

2۔ عزم کے بعد خدا پر توکل

فَإذا عَزَمْتَ فَتَوَكَلْ عَلَی اللهِ إنَّ اللهَ یُحِبُّ المُتَوَكِلِینَ؛ (2)

مگر جب عزم (حتمی ارادہ) کر لیجئے تو اللہ پر توکل کیجئے۔ یقینا اللہ توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے"۔

3۔ توکل کرنے والے صرف خدا پر توکل کریں

* وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ؛* (3)

اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے بھروسا کرنے والوں کو"۔

 

3۔ پل صراط پر مسلمین کا شعار [نعرہ]

امام جعفر صادق(علیہ السلام) نے اپنے آباء و اجداد طیبین کے توسط سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"شُعَارُ المُسْلِميْنَ عَلَى الصِّراطِ يَوْمَ القِيَامَةِ لَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَعَلَى اللهِ فَلْيتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلوْنَ؛ (4)

پلِ صراط پر [جنت کی طرف جانے والے] مسلمانوں کا شعار "لَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ" اور وَعَلَى اللهِ فَلْيتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلوْنَ"* ہے"۔

توکل کے آثار

خدائے متعال ارشاد فرماتا ہے:

وَمَنْ یتَوَکلْ عَلَی اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ؛ (5)

اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے"۔

2۔ غیر متوقعہ وسیلے سے رزق پانا

خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:

"مَنِ اِنْقَطَعَ إِلَى اَللَّهِ كَفَاهُ اَللَّهُ كُلَّ مَئُونَةٍ وَمَنِ اِنْقَطَعَ إِلَى اَلدُّنْيَا وَكَلَهُ اَللَّهُ إِلَيْهَا وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْزُقَهُ اَللَّهُ مِنْ حَيْثُ لاٰ يَحْتَسِبُ فَلْيَتَوَكَّلْ عَلَى اَللَّهِ؛ (6)

جو شخص [دوسروں سے اپنی امید منقطع کرکے صرف] خدا سے اپنی امید باندھ لے، خداوند متعال اس کی زندگی کی ضروریات کو پورا کردیتا ہے اور جو [خدا کو چھوڑ کر] دنیا سے امید باندھ لیتا ہے خدا اس کو دنیا کے سپرد کردیتا ہے اور جو چاہے کہ خداوند متعال غیر متوقعہ وسیلے سے اس کو رزق پہنچائے، تو لازم ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرے"۔

توکل کا غلط مفہوم

منقول ہے کہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) ایک دن کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو بالکل تندرست اور صحتمند تھے لیکن توکل کے مفہوم سے غلط مطلب لے کر اور کام کاج اور زراعت چھوڑ کر مسجد کے گوشے میں بیٹھے تھے۔ آپ نے ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ بولے: ہم متوکلین (توکل کرنے والے) ہیں۔

امام نے فرمایا: تم متأکلین ([لوگوں کا مال] یعنی کھانے والے) ہو؛ اگر تم واقعی توکل کرنے والے ہو تو بتاؤ کہ تمہارے توکل نے تمہیں کہاں تک پہنچایا ہے؟

بولے: تو ہمیں اگر کچھ ملے تو کھا لیتے ہیں اور اگر نہ ملے تو صبر کرتے ہیں!

فرمایا: ہمارے ہاں کے کتے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

بولے: پھر ہم کیا کریں؟

فرمایا: وہی کرو جو ہم کرتے ہیں۔

بولے: آپ کیا کرتے ہیں؟

فرمایا: اگر کچھ ملے تو بخش دیتے دیتے ہیں اور اگر کچھ نہ ملے تو خدائے متعال کا شکر ادا کرتے ہیں۔ (7)

امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کا توکل

طاغوت [شاہ پہلوی] کے زمانے میں شاہی گماشتے امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کو قم سے تہران منتقل کرنا چاہتے تھے۔ لوگ گاڑی کے آس پاس کھڑے گریہ و بکاء کررہے تھے اور امام انہیں صبر کی دعوت دے رہے تھے۔ یہ امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کا اپنا کلام ہے کہ: قم سے تہران جانے والی سڑک پر، بیچ راستے اچانک گاڑی سڑک سے ہٹ گئی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں، لیکن گاڑی واپس سڑک پر آ گئی۔ میں نے اپنے باطن سے رجوع کیا اور دیکھا کہ مجھ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے ... یا پھر عراق اور ایران کی جنگ کے دوران ہزاروں ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں اور اور ہزاروں فوجیوں نے تمام سرحدی علاقوں سے ایران پر حملہ کیا اور ہر جگہ اضطراب اور پریشانی پھیل گئی لیکن امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) نے بھڑکتے ہوئے شعلوں، التہاب و اشتعال کے سمندر پر صبر و توکل کا پانی انڈیل دیا اور فرمایا: "ایک چور آیا، ایک پتھر پھینک کر بھاگ گیا"۔ (8)

صحیح توکل

آیات اور احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ توکل اور محنت کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جاتا کیونکہ ایک طرف سے انسان اپنے خالق کا محتاج ہے اور دوسری طرف سے عالم وجود پر سبب اور مسبب کا نظام حکمفرما ہے چنانچہ انسان اپنے مقصود تک پہنچنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے اور کام کو اسباب اور عوامل سے استفادہ کرتے ہیں اور روزی کمانے کے لئے محنت کرتے ہیں اور اس صورت میں انسان کی کامیابی اور کام کی انجام دہی میں کسی قسم کی رکاوٹ باقی نہيں رہتی؛ لیکن روحانی اور نفسیاتی مسائل اور رکاوٹوں سے نمٹنے کے لئے انسان کو اللہ پر توکل اور اعتماد ہے تاکہ انہیں قابل اعتماد اور مستحکم سہارا میسر آئے۔

توکل کا ثمرہ خوف و ہراس، گھبراہٹ اور ہچکچاہٹ کا خاتمہ، تذبذب سے نجات اور ابلیس کے دھوکے کے خطرے سے چھٹکارے کا حصول ہے؛ البتہ اس میں بھی شک نہیں ہے کہ توکل کی برکت سے شادابی اور طراوت بھی آتی ہے؛ کیونکہ توکل کرکے مسبب الاسباب کے ساتھ ربط و تعلق معرض وجود میں آتا ہے اور اس طرح کے پیوند و تعلق سے تشویش اور گھبراہٹ بےمعنی ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت میں تکل نہ صرف کام کاج اور محنت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ انفرادی اور معاشرتی لحاظ سے، ہر قسم کی معاشی و اقتصادی کامیابی اور رونق بھی ممکن ہوجاتی ہے۔

انبیاء (علیہم السلام) کہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں مجاہدت کرو اور خدا پر توکل کرو اور رزق و روزی کمانے میں صحیح اور جائز راستوں سے انحراف نہ کرو۔ یعنی جب تم اللہ کے راستے پر گامزن ہوتے ہو، اس کی حمایت سے فیض یاب ہوجاؤگے۔

توکل اور محنت

توکل کے معنی یہ نہیں ہیں کہ تم کچھ بھی نہ کرو، اپنے وجود کی قوتوں کو معطل رکھو اور ایک کونے میں بیٹھ کر اور خدا پر اعتماد و توکل کے نعرے لگاؤ اور امید رکھو کہ خدا خود ہی تمہارے فرائض انجام دے گا! کام کاج اور چلنے پھرنے سے اجتناب اور ساکن اور متوقف ہونے کی صورت میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ راہ حق پر گامزن ہونے سے خائف نہ ہونا اور خدا پر توکل کرنا۔ مثال کے طور پر ایک آیت شریفہ ہے جس کو اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے بیان فرمایا ہے؛ جو اپنے مخالفین اور اپنی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے فرماتے تھے:

"وَمَا لَنَا أَلاَّ نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ؛ (9)

تو کیوں ہم اللہ پر توکل (اور بھروسہ) نہ کریں، حالانکہ کہ اس نے ہمیں ہمارے راستوں پر لگایا ہے اور جس قدر بھی ہمیں آزار و اذیت پہنچاؤگے ہم اس پر صبر و استقامت سے کام لیں گے، اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے، توکل کرنے والوں کو"۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے پوری صراحت کے ساتھ توکل کو ایک مثبت امر کے طور پر متعارف کراتا ہے، یعنی ایک راستہ ہے، اس راستے کو طے کرنا ہے اور راستہ طے کرنے کے اس عمل میں مشقتیں بھی ہیں جو ارادے کو سست کردیتی ہیں، اور عزیمتوں کو فسخ کرتی ہیں، چنانچہ ان مشقتوں سے نمٹنے کے لئے توکل کیا جاتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) بھی فرماتے ہیں کہ "ہم اپنا کام جاری رکھیں گے اور باطل کی قوت سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور خدا پر اعتماد کرکے راہ حق پر گامزن رہیں گے"۔

...................

تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

...................

1۔ سورہ آل عمران۔ ص160۔

2۔ سورہ آل عمران، آیت 159۔

3۔ سورہ ابراہیم، آیت 12۔

4۔ شیخ حسین محدث نوری، مستدرک الوسائل، ج5، ص357۔

5۔ سورہ طلاق، آیت 3۔

6۔ ورام ابن ابی فراس، تنبیہ الخواطر ونزہۃ النواظر (مجموعۂ ورام)، ج1، ص222۔

7۔ ع.ز.گ، فرازهایی از ابعاد روحی، اخلاقی و عرفانی امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ)، تہران، ص121۔

8۔ شیخ حسین محدث نوری، مستدرک الوسائل، ج7، ص121.

9۔ سورہ ابراہیم، آیت 12۔