ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 8

وہ فعل جس کو ناپسند کیا جاتا ہے مگر اس کا انجام قابل تعریف ہو، بہتر ہے اس پسندیدہ کام سے جس کا انجام دائمی طور پر مذموم ٹہرتا ہو"۔

رمضان کا آٹھواں نکتہ: انجام بخیر ہونا

انجام بخیر ہونے کے عوامل و اسباب

تفکر و تدبر

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

"مَن كَثُرَتْ فِکرُهُ حَسُنَتْ عاقِبَتُهُ؛ (1)

جو زیادہ فکر و تدبر کرتا ہے وہ انجام بخیر ہوجاتا ہے:۔

فکر و تدبر عمل پر مقدم

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

"إِذَا قَدَّمْتَ اَلْفِكْرَ فِي جَمِيعِ اَفْعَالِكَ حَسُنَتْ عَوَاقِبُكَ فِي كُلِّ اَمْرٍ؛ (2)

جو شخص فکر و تدبر کو اپنے تمام امور پر مقدم رکھوگے، تمہارا انجام تمام امور میں اچھا رہے گا"۔

توبہ

گناہوں سے پلٹ آنا اور ماضی کے برے اعمال کی تلافی کرنا، اللہ کی توفیق ہے جو گناہوں کے بھنور میں ڈوب جانے سے بچاؤ اور بالآخر انجام بخیر ہونے کا سبب بنتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

إنَّ مِنْ سَعادَةِ المَرْءِ أَنْ یَطُولَ عُمْرُهُ وَیَرْزُقَهُ اللهُ الاِنابَةَ؛ (3)

بےشک یہ آدمی کی نیک بختی ہے کہ اللہ اس کی عمر کو طویل کردے اور اسے توبہ (اور گناہوں سے پلٹ آنے) کی توفیق عطا فرمائے"۔

انجام بخیر ہونے کی اہمیت

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

مَكْرُوهٌ تُحْمَدُ عاقِبَتُهُ خَیرٌ مِنْ مَحْبُوبٍ تُذَمُّ مَغْبَتُهُ؛ (4)

وہ فعل جس کو ناپسند کیا جاتا ہے مگر اس کا انجام قابل تعریف ہو، بہتر ہے اس پسندیدہ کام سے جس کا انجام دائمی طور پر مذموم ٹہرتا ہو"۔

گناہ سے دوری اور انجام بخیر ہونا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایک مقام سے گذرے اور فرمایا: "ابھی ابھی ایک شخص ہمارے پاس حاضر ہوگا جس کے ساتھ شیطان تین دن سے تعلق نہیں بنا سکا ہے"۔

اتنے میں ایک عرب شخص اونٹ پر سوار، دور سے نمودار ہؤا۔ قریب پہنچا تو کہا: "پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کون ہیں؟"

لوگوں نے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا تعارف کرایا، تو اس نے عرض کیا: "یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)! مجھے اسلام سکھایئے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس کو کلمہ شہادتین کی تعلیم دی اور فرمایا: "تمہیں پنجگانہ نمازیں ادا کرنا پڑیں گی، روزہ رکھنا پڑے گا، حج بجا لانا پڑے گا، زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی اور غسل جنابت بجا لانا پڑے گا"۔

اس شخص نے قبول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ ہو لیا، لیکن کچھ پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) متوجہ ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے اس کے بارے میں وضاحت مانگی۔ ایک صحابی اسے تلاش کرنے کے لئے چلا گیا اور دیکھا کہ اس کے اونٹ کی ایک ٹانگ ایک کھڈے میں دھنس گیا ہے اور وہ شخص گر کر مر گیا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اسے غسل دیا اور تجہیز و تکفین کا اہتمام کیا اور ایسے حال میں کہ آپ کی جبین مبارک سے پسینے کے قطرے گر رہے تھے، فرمایا:

"یہ شخص بھوک کی حالت میں دنیا سے چلا گیا اور اس کا ایمان کبھی بھی کفر سے آلودہ نہیں ہؤا اور انجام بخیر ہوکر دنیا سے رخصت ہؤا۔ وہ جنت میں داخل ہؤا، جنت کے پھلوں کو تناول کیا اور جنت کی حوروں نے اس کا خیر مقدم کیا"۔ (5)

...................

تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش

ترجمہ: فرحت حسین مہدودی

...................

46۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ج5، ص 214۔

47۔ تمیمی آمدی، وہی ماخذ، ج3، ص 162.۔

48۔ تنبیہ الخواطر ونزہۃ النواظر (مجموعۂ ورام)، ج1، ص7۔

49۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ج6، ص122۔

50۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج22، ص75 و ج68، ص282۔