ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 5

 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سیرت میں منقول ہے کہ آپ اللہ کی شکرگزاری کے لئے اس قدر نماز اور نیم شب کی عبادت کرتے تھے، کہ آپ کہ چہرہ مبارک پیلا پڑ

+جاتا تھا اور آپ کے پاؤں پھول جاتے تھے۔

 رمضان کا پانچواں نکتہ: شکرگزاری

شکرگزاری کی اہمیت

1۔ اللہ کی نعمتوں تک رسائی کا راز

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"إنَّ لِلنِّعَمِ أوابِدٌ كَأوَابِدِ الوَحشِ فَقَیِّدُوها بِالشُّکرِ؛ (21)

اللہ کی نعمتوں کے لئے فرار قرار دیا گیا ہے جس طرح کہ جنگل کے حیوانات کے لئے فرار قرار دیا گیا ہے؛ تو تم ان [نعمتوں] کو شکرگزاری کے ذریعے قید کرلو"۔

2. شکرگزار مقدّم ہے:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"أوَّلُ مَن یُدعی إلیَ الْجَنَّةِ الْحَمّادُونَ الَّذینَ یَحْمَدُونَ اللهَ فِی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ؛ (22)

جن لوگوں کو سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جاتا ہے وہ بہت زیادہ حمد کرنے والے ہیں، وہی جو خوشی اور غم میں اللہ کا حمد و شکر بجا لاتے ہیں"۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور شکر

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سیرت میں منقول ہے کہ آپ اللہ کی شکرگزاری کے لئے اس قدر نماز اور نیم شب کی عبادت کرتے تھے، کہ آپ کہ چہرہ مبارک پیلا پڑ جاتا تھا اور آپ کے پاؤں پھول جاتے تھے۔ ایک دن عائشہ ام المؤمنین نے آنحضرت سے عرض کیا: "آپ کیوں اپنے آپ کو اس قدر زحمت میں ڈال دیتے ہیں؟"؛ تو آپ نے فرمایا:

"أفَلا أكُونُ عَبْداً شَكُوراً؛

تو کیا مجھے ایک شکرگزار بندہ نہیں ہونا چاہئے؟"۔ (23)

شکرگزاری سے اجتناب کا نقصان

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"أسْرَعُ الذُّنُوبِ عُقُوبَةً كُفرانُ النِّعْمَةِ؛ (24)

عقوبت (اور سزا) کے لحاظ سے تیز رفتار ترین گناہ، کفران نعمت (اور ناشکری) ہے"۔

بقول مولانا روم:

شکر نعمت، نعمتت افزون کند

کفر، نعمت از کفت بیرون کند

نعمت کی شکرگزاری تیری نعمتوں میں اضافہ کرتی ہے

کفران نعمت، نعمتوں کو تیرے ہاتھوں سے نکال دیتا ہے

...................

تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش

ترجمہ: فرحت حسین مہدودی

...................

1۔ میرزا حسین محدث نوری، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسة آل البیت علیهم السلام، 1408ھ، ج5، ص312۔

2۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ، ج20، ص312۔

3۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج17، صص257 و 287۔

4۔ علامہ مجلسی، وہی ماخذ، ج69، ص70؛ ورّام بن ابی فراس، تنبیہ الخواطر ونزہۃ النواظر (مجموعۂ ورام)، قم انتشارات مکتبۃ الفقیہ، بی تا، ج 2، ص 175.