جامعۃ المصطفیٰ (ص) پر امریکی پابندی عائد کیے جانے کے خلاف علامہ مختار جعفری کا رد عمل

مدرسہ امام محمد باقر علیہ السلام کے مدیر نے مزید کہا کہ امریکہ نے اپنے اس اقدام کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پوری دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور امریکہ سے بڑا دہشت گردی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں اور کہیں نہیں ہے ۔

 امریکہ کی جانب سے ایران کی انٹرنیشنل یونیورسٹی "جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ" پر پابندی عائد کئے جانے کے خلاف علامہ سید مختار حسین جعفری نے اپنا ردعمل ظاہرے کوئے امریکہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ جامعۃ المصطفی العالمیہ جو ایک عالمی ادارہ ہے اور یہ صرف تعلیمی اور تربیتی میدانوں میں کام کرتا ہے اور اس کا مقصد دنیا میں علم کا پرچار ہے اور علم پھیلانا ہے ، ایسے ادارے پر امریکہ کی جانب سے  پابندی عائد کرنا ایک ایسا اقدام ہے کہ جو امریکی حکومت کے منشور  کے پیش نظر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ امریکہ سے صرف اسی قسم کے اقدامات کی توقع کی جا سکتی ہے اور انسانوں  کے فلاح و بھبود کے سلسلے میں امریکہ کی جانب سے کوئی کام سرانجام ہونا متوقع نہیں ہے، عالمی امن کے لئے امریکہ کوئی کام کرے یہ متوقع نہیں ہے، دنیا کے مستضعف اور کمزور انسانوں کے لئے امریکہ کوئی مدد کرے یہ بالکل متوقع نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے اور شیطان سے اسی قسم کی شیطنت کی توقع کی جا سکتی ہے ، اور شیطان نیک کاموں کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے یہ بھی ممکن نہیں ہے ، لہذا اس سے بھی زیادہ بد تر اقدامات کی امریکہ سے توقع کی جا سکتی ہے لیکن اس اقدام کے ذریعے سے امریکہ نے نہ صرف ایران کو نشانہ بنانے کی حماقت کی بلکہ دنیا کے وہ تمام ممالک کہ جہاں پر جامعۃ المصطفی العالمیہ کام کر رہی ہے اور مسلمانوں کو اس سے فائدہ ہو رہا ہے اور تشنگان علم کی پیاس بجھائی جا رہی ہے، ان تمام ممالک کے خلاف امریکہ کے اس اقدام کو ایک حملہ تصور کیا جائے گا  اور اس سے یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ امریکہ علم، انسانیت  اور انسانی اقدار کا دشمن ہے اور ہر اس چیز کا دشمن ہے کہ جس سے انسانوں کو فائدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوں  اور عالمی ترقی میں شامل ہوں ۔

مدرسہ امام محمد باقر علیہ السلام کے مدیر نے مزید کہا کہ امریکہ نے اپنے اس اقدام کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پوری دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور  امریکہ سے بڑا دہشت گردی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں اور کہیں نہیں ہے ۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا کے وہ تمام مسلمان ممالک کہ جہاں جامعۃ المصطفی العالمیہ کی شاخیں کام کر رہی ہیں انہیں ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کرنی چاہئے اس لئے کہ یہ ان ممالک کی ترقی  اور فلاح و بھبود پر امریکہ کی طرف سے حملہ ہے ۔ امریکہ جان چکا ہے کہ علم ہی کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے اور علم کا بہترین منبع وہی علوم ہیں کہ جو جامعۃ المصطفی العالمیہ میں  پڑھائے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعے امریکہ کی شیطنت، سامراجیت اور اس کی استعماری و استثماری حرکتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور امریکہ نہیں چاہتا کہ دنیا کے تمام ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہو کے خود کو امریکہ سے بے نیاز سمجھنے لگیں۔

موصوف نے امریکہ کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی انسان دشمن اور انسانیت کے خلاف جارحیت اور دہشتگردی سے تعبیر کیا۔