عرب ممالک کی پشت پناہی اسرائیل کے لیے نفع بخش ثابت ہو رہی ہے: راجہ ناصر

راجہ ناصر نے کہا کہ عرب ممالک کی پشت پناہی اسرائیل کے لیے نفع بخش ثابت ہو رہی ہے جو مستقبل میں امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

 مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے صوبہ سندھ کے دورے کے دوران مختلف وفود سے ملاقاتیں کرتے ہوئے اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کو جتنا نقصان مذہبی منافرت اور انتہا پسندی نے پہنچایا ہے اتنا کسی دوسری چیز سے نہیں پہنچا۔ بیرونی ٹکروں پر پلنے والے نام نہاد دین پرستوں نے ایک دوسرے کے خلاف زہر اگل کر ارض پاک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی مذموم کوشش کی۔ ہم نے اتحاد و اخوت کے جس بیانیے کا پرچار کیا اس کے مثبت نتائج سب کے سامنے ہیں۔ شیعہ سنی علما  ہر پلیٹ فارم پر وحدت و اخوت کا عملی مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں جب کہ تکفیری گروہوں منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا جو قوتیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ان کے خلاف حکومت،ریاستی اداروں اور عوام کو یکساں انداز فکر اپنانا ہو گا۔جن حکمرانوں نے ماضی میں عوام کو سوائے مایوسی اور بدحالی کے کچھ نہیں دیا آج وہی عناصر ملک کی ترقی و استحکام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان انتخابات کے دوران مودی کی زبان بولنے والے کرداروں کا اصل چہرہ کھل کر عوام کے سامنے آ گیا ہے۔

گلگت بلتستان صوبے کی مخالفت عوام دشمنی اور بلوچستان کی خود مختاری کی بات ملک و قوم سے غداری ہے۔ عالمی ایشوز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی پشت پناہی اسرائیل کے لیے نفع بخش ثابت ہو رہی ہے جو مستقبل میں امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہود ونصاری کبھی بھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ہمیشہ آستین کا سانپ بن کر ڈسا ہے۔ان سے دوری اختیار کرنے میں ہی بقا و سالمیت کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔