ڈرو کہ یوم ِعلی اصغر عالمی ہو رہا ہے!!!

بقول پروفیسر علی اکبر رائفی پور، مغرب کو حسین (ع) کے غم میں آنسو بہانے سے خطرہ نہیں۔۔۔۔۔۔ دشمن کو اس سے ڈر ہے کہ ہم امام حسین (ع) کی عزاداری سے کچھ ایسا نہ سیکھیں کہ امام زمانہ (عج) کی مدد کر پائیں۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی نسلوں کو کربلا کے اُس طفلِ صغیر کی معرفت سے روشناس کروائیں، تاکہ ولی خدا منتقم کربلا کی نصرت کی راہیں ہموار ہوسکیں۔

 کربلا ایک ایسی درسگاہ کا نام ہے، جہاں ہر فرد چاہے وہ سن صغیر ہو یا سن کبیر، اپنی جگہ صبر و استقامت، جرات و شجاعت، خورشید عصمت و طہارت کا حامل ہے، جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے سرچشمہ ہدایت ہیں۔ کربلا میں ایسے اسرار و رموز پوشیدہ ہیں، جہاں اسی سالہ حبیب ابن مظاہر بھی ملے گا اور شش ماہ کا باب الحوائج علی اصغر بھی. یہ عنوان بھی ایک ایسی کم سن اور معصوم ہستی کے حوالے سے ہے، جو سن میں سفینہ کربلا میں سب سے چھوٹی مگر معرفت و اطاعت ولی خدا میں سب سے بڑی اور کامل تھی۔ یہ تذکرہ ہے کربلا کے اُس درخشاں چہرہ طفلِ صغیر کا جو مظلومیت کی سب سے مظلوم سند ہے۔ محرم الحرام کا پہلا جمعہ یوم حضرت علی اصغر علیہ السلام کے عنوان سے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد رسم عزاداری ہے، جو ہر سال عالمی سطح پر ماه محرم الحرام کے پہلے جمعہ کو کربلا میں شہید کئے گئے بچوں خاص طور پر شش ماہے حضرت علی اصغر (ع) ابن امام حسین (ع) کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے، جو اب عالمی میڈیا اور مختلف عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔

اس رسم عزاداری کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مائیں اپنے شیر خوار اور نونہال بچوں کو حضرت علی اصغر علیہ السلام سے منسوب سبز و سفید رنگ کے لباس پہنا کر اور پیشانیوں پر پٹیاں باندھ کر جن پر عام طور پر یا صاحب الزمان (عج) اور جناب علی اصغر (ع) کا نام لکھا ہوتا ہے، شرکت کرتیں اور اہل بیت اطہار (ع) سے اپنی والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کرتی ہیں۔ گویا اپنے وقت کے امام (عج) سے اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ "اے امام زمان (عج) میں اپنے بچے کو آپ کے انقلاب میں نصرت و مدد کے لیے نذر کر رہی ہوں اور اس کو اپنے ظہور کے لیے جو قریب ہے، انتخاب کیجئے اور حفاظت فرمائیں۔" وہی خوف جو 61 ہجری میں، میدان کربلا میں شش ماہے حضرت علی اصغر (ع) سے یزیدی فوج کے سپہ سالار عمر سعد (لعین) کو لاحق تھا۔ ننھے علی اصغر (ع) نے یزیدی فوج میں کہرام برپا کر دیا تھا، جبهی عمر سعد نے حرملہ (لعين) سے کہا تھا کہ حسین (ع) کے کلام کو قطع کر دو اور حرملہ نے قوی الجثہ جانوروں کا شکار کرنے والے تیر سے حضرت علی اصغر (ع) کا حلقوم چھلنی کر دیا تھا۔

آج کے عمر سعد بهی اسی لئے خوفزدہ ہیں۔۔۔ ان کے علم میں ہے کہ ماں اور بیٹے کی محبت سے بڑھ کر دنیا میں کوئی محبت نہیں ہے۔۔ اب ایسا کیا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو ہاتھوں پر اٹھا کر فدا کرنے کیلئے تیار ہیں؟؟ ماں کی محبت ایسی ہے کہ جو بهی بچے کو چاہیئے وہ اسے چاہیئے۔ جتنا چھوٹا ہو، اتنا زیادہ پیارا ہوتا ہے۔۔ اپنی جان سے زیادہ عزیز۔۔۔ پر یہ مائیں کار زینبی انجام دیتے ہوئے ہاتهوں پر چھوٹے چھوٹے بچے اٹھا کر کہہ رہی ہیں!!! یا حسین علیہ السلام یہ ہماری اولاد آپ کے علی اصغر (ع) پر فدا ہو۔ کربلا ظلم و ستم کے خلاف استقامت کا نام ہے۔ کربلا ظلمت کی تاریکیوں میں نور و روشنی کا نام ہے اور بشریت کے لیے نجات کی ضامن ہے۔ جس طرح سے دنیا کی باطل قوتیں ان عاشورائی اور مبارزاتی عزاداری کے خلاف صف آرا ہوگئی ہیں، تو کربلا کو مشعل راہ بنانے والوں کو بھی چاہیئے کہ عالمی یوم علی اصغر (ع) اور اس جیسے دیگر مراسم عزاداری کو زیادہ سے زیادہ برپا کرکے کربلائی ہونے کا ثبوت دیں، عاشورائی فکر کو فروغ دیں اور اس دور کے عمر سعدوں، شمروں اور یزیدیوں کی صفوں میں کہرام برپا کر دیں۔

بقول پروفیسر علی اکبر رائفی پور، مغرب کو حسین (ع) کے غم میں آنسو بہانے سے خطرہ نہیں۔۔۔۔۔۔ دشمن کو اس سے ڈر ہے کہ ہم امام حسین (ع) کی عزاداری سے کچھ ایسا نہ سیکھیں کہ امام زمانہ (عج) کی مدد کر پائیں۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی نسلوں کو کربلا کے اُس طفلِ صغیر کی معرفت سے روشناس کروائیں، تاکہ ولی خدا منتقم کربلا کی نصرت کی راہیں ہموار ہوسکیں۔

اے قوم! وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ

اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ

تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ

مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو

لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابنِ علی ہو