سرزمین فلسطین کے وارثوں کو ان کے حقوق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم کیا سوچنا بھی عبث: ساجد نقوی

علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں بابائے قوم کا واضح فرمان ہے کہ اسرائیل امت مسلمہ کے قلب میں خنجر کے مترادف ہے، جب بابائے قوم ایک بھی یہودی کے سرزمین انبیاءؑ پر آباد ہونے کے حق میں نہیں تھے تو چہ جائیکہ غاصب ریاست؟

 قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں بابائے قوم کا واضح فرمان ہے کہ اسرائیل امت مسلمہ کے قلب میں خنجر کے مترادف ہے، جب بابائے قوم ایک بھی یہودی کے سرزمین انبیاءؑ پر آباد ہونے کے حق میں نہیں تھے تو چہ جائیکہ غاصب ریاست؟ قرارداد پاکستان کے ساتھ قرارداد فلسطین کا منظور ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان ہمیشہ سے دوٹوک اور واضح موقف رہاہے،محرم الحرام میں عظیم قربانی بھی یہی درس دیتی ہے کہ ظالموں کےخلاف اور مظلوموں کی آواز بنیں ۔

حالیہ معاہدوں کے بعد خطے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بابائے قوم کے الفاظ دہراتے ہوئے کہاکہ انہوںنے عالم اسلام اور باالخصوص عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”اپنے حقوق کےلئے ڈٹ جائیںاور خبردار ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں یہ امت کے قلب میں خنجر گھسایاگیا ہے، یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کریگا“جبکہ 23مارچ 1940 ءکو مینار پاکستان کے مقام پر قرارداد پاکستان کےساتھ یکجہتی فلسطین کی قرارداد منظور ہونا بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے جبکہ بابائے قوم نے آل پاکستان مسلم لیگ کے اجلاسوں اور عالمی رہنماں کے ساتھ خط و کتابت اور اہم مواقع پر ہمیشہ نہ صرف مسئلہ فلسطین کو اجاگر کیا بلکہ آج سے 7دہائیاں قبل غاصب ریاست کی تباہ کاریوں کی پیش گوئی بھی اسی طرح کردی تھی،بانی پاکستان نے خود عربوں کو کہاکہ اپنے حقوق کےلئے ڈٹ جائیں مگر افسوس آج وہ انبیاءکی سرزمین کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں لگے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اب تک مسئلہ فلسطین کے حوالے سے جتنے بھی معاہدے ہوئے ان میں اس سرزمین کے اصل وارثوں کے حقوق کو نظر انداز کردیاگیا،قتل عام اور مظالم آج تک جاری ہیں بلکہ اس میں تیزی آگئی، ناجائز بستیاں بسانے کا سلسلہ تھم نہ سکا، انسانی حقوق کی پامالیاں تواتر سے جاری ہیں تو ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کاتصور تو کیا سوچنا بھی عبث ہے۔

دوسری قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ محرم الحرام کا مہینہ عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتاہے ، امام عالی مقام اور ان کے رفقاءکی عظیم قربانی یہی درس دیتی ہے کہ ظالموں کے خلاف مظلوموں کی آوازبنیں، آج فلسطین ،کشمیر تا روہنگیا مسلمان ظلم کا شکارہیں، امہ کو اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات بھلا کر مظلوموں کی آواز بننے کےلئے متحد ہونا ہوگا، جب تک یہ امت آپس میں دست و گریباں رہے گی استعماریت کا یہ ظلم بھی بڑھتا رہے گا۔