عزاداری سید الشہداءؑ کسی مکتب اور مسلک کے خلاف نہیں: علامہ ساجد نقوی

علامہ ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ محرم ہمیں سیدالشہداؑ حضرت امام حسین ؑاور شہدائے کربلا کی شہادت کے ساتھ ساتھ ان کے مشن اور جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔واقعات کربلا کا ذکر اور شہدائے کربلا کی یاد تازہ کرنا ان کے مشن اور جدو جہد کو تازہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے

 قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ماہ محرم الحرام 1442 ھ کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ نواسہ رسول اکرم ‘ امامؑ عالی مقام پوری انسانیت کے پیشوا او ر امام ہیں لہذا عزاداری سید الشہداءؑ کسی مکتب اور مسلک کے خلاف نہیں بلکہ یزیدیت اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج ہے اس لئے موجودہ صورت حال میں احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھ کر اسلام کے روشن چہرے کو انسانیت کی رہنمائی کیلئے بیان کیا جائے، وحدت و اخوت کو فروغ دیا جائے اور نفرت و انتشار کا خاتمہ کرکے بدی کی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے تاکہ شرپسند عناصر امت مسلمہ کی داخلی وحدت کو کمزور نہ کرسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محرم ہمیں سیدالشہداؑ حضرت امام حسین ؑاور شہدائے کربلا کی شہادت کے ساتھ ساتھ ان کے مشن اور جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔واقعات کربلا کا ذکر اور شہدائے کربلا کی یاد تازہ کرنا ان کے مشن اور جدو جہد کو تازہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ محافل عزاداری اور مجالس عزاءکا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ حسینیت کے مقاصد اور یزیدیت کے عزائم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جا سکے اور مشن حسین ؑ کی روشنی اور رہنمائی میں دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز سے نبردآزما ہونے کا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ قیام پاکستان سے ہمارے ہاں عزاداری سیدالشہداءؑ کا سلسلہ جاری ہے لیکن گذشتہ چند سالوں سے یہ بات مشاہدے کا حصہ ہے کہ محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ملک میں سنسنی خیزی پیدا کر دی جاتی ہے ، ایام عزاءمیں کرفیو کا عالم پیدا کردیا جاتا ہے ، سنگینوں کے سائے تلے عزاداری کا انعقاد ہوتا ہے گویا ایسا ماحول پیدا کردیا جاتا ہے کہ محرم الحرام کسی جنگ، خوف یا بدامنی کا پیغام بن کر آ رہا ہے حالانکہ محرم کے ایام عزاء مسلمانوں کے درمیان دین محمدی اور اہلبیت محمد کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک حسین موقع کے طور پر آتا ہے لیکن سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت اور انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے اس صورت حال کا خاتمہ کرنا حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حق تو یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ شہدائے کربلا کے حضور خراج عقیدت پیش کر سکے لیکن خود حکومتیں اپنے شہریوں کو اس حق سے محروم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرتی ہیں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ان کے شہری، آئینی اور مذہبی حقوق کی آزادی فراہم کریں مراسم عزاءکے انعقاد اور اہتمام میں عوام کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ۔مجالس عزاءاور جلوس ہائے عزاءکے تحفظ اور شرپسندی کے خاتمے اور امن و امان کے راستے میں پیش آنے والی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کریں۔جلوس ہائے عزاءکے روٹ کو محدود یا تبدیل کرنے، مجالس عزاءکے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے اور مجالس ختم یا تبدیل کرنے کے احکامات جاری کرنے سے اجتناب کریں اور کسی قسم کا خوف و ہراس اور پریشانی پھیلانے کی بجائے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے تمام مسالک کے علماء،ذاکرین ‘ خطبا اور عوام کو متوجہ کیا کہ وہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں،اتحادو وحدت کی فضاءکو مزید مضبوط کریںاور مسالک کی مقدسات کا احترام کریں توہین سے گریز کریں اور اپنے نکتہ نظر کو علمی انداز اور مہذہب پیرائے میں بیان کریں۔ تعاون اور برداشت کا ماحول پیدا کریں‘ شرپسندوں اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں سے اعلان لا تعلقی کریںاور امن کے دشمن عناصر کے عزائم کے سامنے وحدت کی دیوار کھڑی کریں۔حکومت کے مثبت اقدامات میں تعاون کریں اور امن کمیٹیوں میں اپنا بہترین کردار ادا کریں تاکہ وطن عزیز پاکستان میں وحدت کی فضاءمزید بہتر ہو، ہر قسم کی نفرتوں اور عداوتوں کا خاتمہ ہو اور اسلامی و فلاحی معاشرے کے سائے میں پاکستان عالم اسلام کے لیے نمونہ عمل قرار پا سکے۔