یوم مباہلہ کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

 

علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ یہ دن خاصان خدا کی طرف سے دین خدا کی صداقت و حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کا دن ہے جس کی وجہ سے دین حق سے انکار کرنے والوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

 قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے24ذوالحجہ یوم مباہلہ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ آیت مباہلہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر عالمی پیغام اور آفاقی نظریہ کیلئے مد مقابل علم و دلائل کے مقابلے میں ہٹ دھرمی اختیار کرے تو پاکیزہ ہستیوں کو سامنے لایا جاتا ہے اور مباہلہ کی دعوت دی جاتی ہے اور اس پر بات ختم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن خاصان خدا کی طرف سے دین خدا کی صداقت و حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کا دن ہے جس کی وجہ سے دین حق سے انکار کرنے والوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوم مباہلہ پیغمبر گرامی نے یہ بات رہتی دنیا تک کے لئے واضح کر دی کہ سسکتی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کے لئے خانوادہ رسالت نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے دنیائے عالم کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کیا اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام اور بدی کی قوتوں کے خلاف جدوجہد کرکے بلاتفریق انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس دین کامل کو خدا کے نزدیک پسندیدہ دین قرار دیا گیا ہو اور جس کی تبلیغ و ترویج کے لئے رحمت العالمین جیسی ہستی نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ہوں اور پھر جس دین کی سچائی کو دنیائے عالم پر واضح کرنے کے لئے رسول خدا اپنے اہل بیت اطہار ؑ کے ہمراہ مباہلے کے لئے نکل پڑے ہوں یہ امر عالم انسانیت کو اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ جلد یا بدیر بالآخر دنیائے عالم کو دین حق کی جانب ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ دین اسلام ہی بالاخر انسان کی دنیوی و اخروی فلاح اور نجات کا ضامن ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ امر خاص طور پر توجہ کا طالب ہے کہ یوم مباہلہ کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ مکمل ضابطہ حیات کی سربلندی اور ترویج کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اوراس پر عمل پیرا ہوکر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کوبہتر بنانے کی سعی و کوشش کریں گے۔