انگریزی شیعہ کون ہیں؟ چوتھی قسط

انگریزوں کے حمایت اور تربیت یافتہ انگریز علماء انگریزوں کے پیسے سے بنائے ہوئے مدارس اور ثقافتی مراکز میں اور انہیں کے عطا کردہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں پر ایک طرف سے انتہا پسندانہ افکار و عقائد کی ترویج کر کے شیعوں کو اہل سنت پر لعن و طعن اور ان سے برائت و بیزاری کی ترغیب دلاتے ہیں اور دوسری طرف سے ان شیعہ مجاہدین اور مدافعین حرم کو نہایت نازیبا الفاظ سے طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں جو صہیونیت اور صہیونیوں کے کرائے کے تکفیری ایجنٹوں کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں اور یوں انگریزی شیعہ کوشش کرتے ہیں کہ مغرب اور بالخصوص برطانیہ کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچنے پائے۔

 انگریزی تشیّع کی پوری توجہ اصولی طور پر برطانیہ کے اختلاف انگیز اقدامات اور پالیسیوں کے نفاذ پر مرتکز رہتی ہے اور عالمی استکبار و استعمار کے مد مقابل اسلامی اتحاد و یکجہتی سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے؛ اور پھر اس فرقے کے تمام سرغنوں اور تشہیری عناصر نے استعمار کی آغوش میں پناہ لے رکھی ہے۔ اس فرقے کے سادہ لوح اور بھٹکے ہوئے اور کچھ گمراہ کن افکار کے مالک افراد خواہ برطانیہ اور خواہ امریکہ کے ہاتھوں کا کھلونا ہوں، مسلم امہ کے دو بازؤوں "شیعہ اور سنی" کے درمیان فتنہ انگیزی کا بیج بوتے ہیں، اور ہفتۂ برائت ـ یعنی اہل سنت سے بیزاری کا ہفتہ ـ مناتے ہیں اور اس سلسلے میں جلسہ جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس فتنے کی آگ بجھانے کی غرض سے ماہ ربیع الاول میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ کے موقع پر ہفتۂ وحدت کا انعقاد عمل میں لایا، انگریزی تشیع کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اختلاف کی یہ آگ بھڑکتی رہے؛ حالانکہ ائمۂ اطہار علیہم السلام نے دوسرے مسلمانوں، بشمول اہل سنت کے مقدسات کی توہین سے منع کیا ہے اور قم و نجف کے تمام علماء اور مراجع عظام نے اہل سنت کے مقدسات و اکابرین ـ بالخصوص خلفاء اور ازواج رسول(ص) ـ کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔

آج بھی برطانیہ اپنے تاریخی تجربات سے استفادہ کرکے نئے اختلافات کو ہوا دے کر اپنی سامراجیت کا راستہ روکنے والے محاذ مزاحمت سے انتقام لینے کے درپے ہے۔ عراق پر برطانیہ قابض ہوا تو اس وقت کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی میرزا محمد تقی شیرازی [میرزائے دوئم] نے سنہ 1920ع‍ میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا اور عراق کی آزادی کی تحریک (ثورۃ العشرین) کی قیادت کی۔ انگریزوں نے انہیں زہر دلوا دیا جس کے نتیجے میں میرزائے شیرازی نے 28 اگست 1920ع‍ میں جام شہادت نوش کیا لیکن برطانوی استعمار کے انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے انیسویں صدی میں شرق الہند کمپنی (East India Company) کے طرز پر ریجی کمپنی (Régie Company) نے ابتدائی طور ایران میں تمباکو کی پیداوار پر اپنی موناپولی جمانے کی کوشش کی تو آیت اللہ العظمی سید محمد حسن حسینی شیرازی (1230ھ ق - 1312ھ ق) المعروف بہ میرزائے شیرازی و میرزائے مجدد نے تمباکو کی حرمت کا فتوی دیا اور تمباکو کی خرید و فروخت مکمل طور پر بند ہوئی اور تمباکو کا استعمال بھی مکمل طور پر ختم ہوا اور یوں انھوں نے اس سازش کو ناکام بنایا؛ اور انگریزوں نے ان ہی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو استعمال کرکے سامراج مخالف فتاویٰ جیسے قمی زنی یا خلفاء پر لعن طعن کی حرمت پر مبنی فتوں کی مخالفت کروا کر میرزائے شیرازی کے اس فتوے کا انتقام لینے کی کوشش کی اور ابھی تک انتقام لینے میں مصروف ہے۔ اسلامی مزاحمت نے البتہ انگریزوں کی بنائی یہودی ریاست کو بڑی دشواریوں سے دوچار کیا ہے چنانچہ اب انگریزی استعمار محاذ مزاحمت سے انتقام لے رہا ہے اور اس کے لئے انگریزی شیعوں کو بھی استعمال کر رہا ہے اور غیر تعلیم یافتہ افراد سے غیر مستند کتابیں لکھوا کر تکفیر کا بازار گرم کئے ہوئے ہے گوکہ دوسری طرف سے وہ انگریزی اور امریکی سنیوں کو تقویت پہنچانے سے بھی غافل نہیں ہیں۔

حقیقی تشیّع عقلانیت، آگہی، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ذلت و ظلم کے خلاف ڈٹ کر رہنے والا مذہب ہے، مگر برطانیہ، امریکہ اور بنی سعود کی فنڈنگ کے بدولت وسیع ترین تشہیری نیٹ ورک کی حامل یہ مٹھی بھر جماعت کی منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے پورے عالم تشیّع کو کم عقل، غصیلے اور تشدد پسند ٹولے کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے؛ یہی انگریزوں اور امریکیوں کا مقصد بھی ہے، جس پر انگریزی شیعہ کاربند ہیں۔

عبارت "Shia Muslim" کو سرچ انجنز میں تلاش کرکے، اس نامعقول اور منفی تبلیغ کے مصادیق کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ سرچ انجن اس عبارت کی تلاش کے نتیجے میں عام طور پر قمہ زنی اور اس جیسے اعمال کی تصویریں فراہم کرتے ہیں۔

تجربے سے ثابت ہے کہ علماء کا ایک خاص سطح پر انگریزی اداروں کے اثر و رسوخ کا انکار ممکن نہیں ہے۔

امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر نے اپنی خودنوشت داستان حیات میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے کہ انقلاب کے دور میں تہران میں آخری امریکی سفیر ولیم سولیوان (William Healy Sullivan) اور اس وقت کے برطانوی سفیر انتھونی ڈیرک پارسنس (Anthony Derrick Parsons) نے ایک مرجع تقلید کی قربت حاصل کرنے کی بہتیری کوشش کی تھی؛ وہ اس مرجع تقلید کے اثر و رسوخ سے استفادہ کرکے دوسرے مراجع تقلید تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے۔ (کتاب خاطرات سید حسین نصر، ص 356) اور بدقسمتی سے اس مرجع تقلید پر ان دو سفیروں کی کوششوں کا اثر ہوا اور ہوا وہ کچھ جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔

جاری