انگریزی شیعہ کون ہیں؟ تیسری قسط

نگریزی تَشَیُّع "امریکی اسلام" ہی کی شاخ ہے؛ ایسا فرقہ جس کا جہاد اور شہادت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اس فرقے کے پیروکار اپنے حلیف داعش، القاعدہ اور اسلام کے دعویدار دوسرے دہشت گرد تکفیری ٹولوں کی طرح ہیں جو مسلمانوں کے گلے کاٹتے ہوئے قرآنی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہیں مگر طاغوت، ظالمین، امریکہ اور دوسری استعماری طاقتوں کے لئے بالکل بےخطر ہیں اور امریکہ اور یہودی ریاست [اسرائیل] کی ریشہ دوانیوں کو خاموشی سے نظر انداز کرتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو انسان اور دین کے دشمنوں کی حمایت اور فلسطین، لبنان، یمن، عراق، افغانستان، شام اور پاکستان میں امریکہ اور یہودی ریاست کے مظالم کا نشانہ بننے والے مظلوموں کی مذمت بھی کرتے ہیں یا پھر تشہیری مہم میں انسان دشمن طاقتوں کی تشہیری مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انگریزی شیعہ تکفیریوں، صہیونیوں اور امریکیوں کی طرح مدافعین حرم کے دشمن اور حرم پر حملہ آوروں کے خاموش حامی ہیں۔

"انگریزی شیعہ" ترجیح دیتے ہیں کہ اپنے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے لشکر میں جہاد کرکے شہادت پانے سے دور بھاگیں لیکن لوگوں کو فریب دینے کے لئے امام حسین علیہ السلام کے لئے گریہ و بکاء کریں اور بظاہر پورا سال عزادار بنے رہیں۔ اسی بنا پر آپ کبھی بھی انہیں مدافعین حرم کی صفوں میں نہیں دیکھ سکیں گے بلکہ انہیں مدافعین حرم اور راہ خدا میں جہاد و شہادت کے خواہاں مؤمنوں کے خلاف تشہری مہم چلانے میں سعودی-یہودی جڑواں ریاستوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے دیکھیں گے۔ انگریزی تَشَیُّع کا نصب العین "امریکی تسنّن" کی طرح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے دین و امت کی اصلاح نہیں ہے بلکہ وہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انتشار پھیلانے پر اصرار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور اس فرقے کے پیروکار شیعوں کو بھی کافر قرار دیتے ہیں اور سنیوں کو بھی؛ جس طرح کہ اس کا حلیف فرقہ "امریکی_تسنن" سنیوں کو بھی کافر کہتا ہے اور شیعوں کو بھی؛ وہ طعن و دشنام کا سہارا لیتے ہیں، اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور جب ایم آئی 6 یا سی آئی اے یا موساد کا حکم ملے تو امام علی بن موسی الرضا اور سیدہ فاطمہ معصومہ علیہما السلام کے روضہ ہائے مبارک پر حملہ بھی کرتے ہیں اور ان حرم ہائے مطہر کے دروازے بھی توڑتے ہیں۔ وہ دنیا میں واحد شیعہ اور اسلامی حکومت کو کبھی معاف نہيں کرتے اور اپنے حلیفوں اور آقاؤں کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے خونی دشمن ہیں۔

امام خامنہ ای نے ہمیشہ زور دے کر فرمایا ہے کہ اصلی اور فرعی دشمنوں کی شناخت کرکے انہيں ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہئے؛ تاہم انگریزی تشیع فرعی دشمن نہیں ہے۔ یہ اصلی اور بنیادی دشمنوں کی سازش ہے؛ وہ منحوس سازش جس کی ایک شاخ داعش کی صورت میں ابھری ہے، دوسری شاخ "وہابیت اور جاہلیت" کی صورت میں اور ایک شاخ اسلامی احکام اور اصولوں کی توہین کرنے والا فرقہ "بہائیت" کی صورت میں۔  
انگریزی_تَشَیُّع، شیعوں کو ایک خونریز، غیر عقلی اور انتہاپسند مکتب کے طور پر متعارف کرتا ہے، اور بصیرت و کیاست کے امام امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پیروکاروں کو اپنا خون بہانے کی تلقین کرتا ہے؛ جبکہ دنیا جہان کا اعتراف ہے کہ شیعوں کے معصوم ائمہ علیہم السلام عقلیت اور عدالت کا مظہر ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ شیعہ ایک مجاہد امت کا نام ہے جس کی تلوار کفار اور دشمنان اسلام کے خلاف محاذ میں نیام سے باہر آتی ہے اور آتی رہی ہے لیکن "انگریزی شیعہ" یا تو اپنا سر پھوڑنے کی تلقین کرے گا یا پھر مسلمانوں کے درمیان جنگ و نزاع کا اہتمام کرکے مسلمانوں کے قتل عام کی پرچار کرتا ہے؛ یعنی کفار اور مستکبرین کے آگے اسے آپ سجدہ ریز دیکھیں گے لیکن مسلمانوں کے قتل کی ترویج کرے گا۔ المختصر "انگریزی شیعہ" نالائق اور دشمنان دین کے آگے بےاثر اور مسلمانوں کے لئے مضر ہیں۔
"اختلاف ڈالو اور حکومت کرو" کی انگریزی پالیسی، اعتقادی اختلافات کی بنیاد پر متعدد فرقے بنانے کے بعد، دوسرے اسلامی مذاہب کے مقابلے میں مذہب حقۂ جعفریہ اثنا عشریہ کو کمزور کرنے پر مرکوز ہو کر جاری رہی۔
لیکن کمزور کرنے کا یہ عمل براہ راست شیعیان اہل بیت(ع) کو کمزور کرنے کے عنوان سے نہیں تھا بلکہ ان شیعوں کی پذیرائی پر مبنی تھا جنہوں نے اپنی جہالت اور نادانی کی بنا پر ایم آئی 6 (MI6) کا ساتھ دے کر تشیّع اور شیعیان اہل بیت(ع) کو نشانہ بنایا۔ ایسے حال میں کہ مبلغین اور مراجع تقلید کی تعلیم و تربیت قم اور نجف میں ہو رہی تھی اور ہو رہی ہے، لندن میں مبلغین اور مراجع تقلید کی تربیت کا اہتمام شروع ہوا؛ اور ان مبلغین اور مراجع نے برطانیہ اور امریکہ میں درجنوں ٹی وی چینل اور ویبگاہیں بنا کر آزادانہ طور پر انگریزوں اور امریکیوں کے مطلب کی تبلیغ اور تشہیر کا آغاز کیا۔ جن کے نام تو بڑے دلفریب ہیں مگر ان کے مقاصد اور ان کے تشہیر کردہ معطیات نہایت دل آزار اور ہولناک ہیں جو اسلام اور مسلم امہ کے اتحاد و یکجہتی کے لئے خطرناک اور یہود و نصاریٰ کے مقاصد کے لئے از حد مفید ہیں۔

شیعیان اہل بیت(ع) میں انگریز کے اثر و رسوخ کے پرانے نقشِ پا کا تعلق انیسویں صدی عیسوی سے ہے جب آیت اللہ العظمی سید محمد حسن شیرازی ـ المعروف بہ میرزا بزرگ شیرازی ـ نے ایران پر مسلط کردہ انگریزوں کے سامراجی معاہدوں کی مخالفت کا آغاز کیا جس کے بعد شیعہ علماء اس استعماری طاقت کے خلاف مزاحمت اور جہاد کے فتوے دیتے رہے ہیں۔
برطانوی حکومت اور اس کے جاسوسی اداروں نے اسی دور سے بعض شیعہ مراجع اور علماء کی حمایت کا اہتمام کیا اور یہ سلسلہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد عروج کو پہنچا اور چونکہ یہ علماء و مراجع انگریزوں کی حمایت کی بنا پر یورپ میں کافی مقبول ہوئے تھے چنانچہ انگریزی سرکار نے ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھا کر ایسے طلبہ کی پرورش کا آغاز کیا جو ایران کے اسلامی نظام کے مخالف رجحانات رکھتے تھے؛ اور یوں انگریزوں نے ایسے رجحانات پیدا کئے جو قم اور نجف کے مراجع اور علماء کی روش کے خلاف تھے چنانچہ انھوں نے مرجعیت کے نام پر مرجعیت پر وار کرنے اور مراجع کی دشمنی پر مبنی تصورات پیدا کئے۔
"لندنی مولویوں" کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ یہ سلسلہ آج "انگریزی مرجع" کے تعارف کا مرحلہ آن پہنچا اور جانے پہچانے خاندانوں سے کچھ افراد کو مرجع تقلید کے عنوان سے متعارف کروایا جو بدقسمتی سے MI6 کے نقشے کے عین مطابق اسی کے ترسیم کردہ راستے پر گامزن ہوئے اور ان افراد نے اسلامی نظام کی اساس، گرانقدر شیعہ مراجع تقلید، مرجعیتِ شیعہ اور ولایت فقیہ کو متنازعہ تک آگے بڑھ چکے ہیں۔
یہ لوگ ایسے تشیّع کو پروان چڑھانے کے خواہشمند ہیں جن کا تو امریکہ کی تسلط پسندی سے کوئی سروکار ہے، نہ اسلامی ممالک پر استعمار کے تسلط کے خلاف ہیں اور نہ ہی فلسطین اور دوسری اسلامی سرزمینوں پر یہودی ریاست (اسرائیل) کے قبضے پر انہیں کوئی اعتراض ہے۔
یہ لوگ نہ تو غزہ کے مظلوم بچوں کے دفاع کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں، نہ انہیں یمن کے عوام پر وہابی-صہیونی-امریکی یلغار پر کوئی اعتراض کرتے ہیں، نہ داعش سے ان کا کوئی اختلاف ہے، اور نہ دفاع حرم ان کے لئے اہمیت رکھتا ہے؛ اور ایسے حال میں کہ امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) فرماتے ہیں کہ "برطانیہ امریکہ اور سوویت اتحاد سے زیادہ خبیث ہے؛ یہ نام نہاد علماء امریکہ اور برطانیہ میں اظہار کی جعلی آزادی کی مداحی میں مصروف نظر آتے ہیں اور بڑی صراحت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ "ہمیں امریکہ اور اسرائیل کے کسی کام سے کوئی سروکار نہیں ہے"۔
ترجمہ؛ ابو اسد