ایران کے راستے پاکستانی زائرین کی کربلائے معلی روانگی کا سلسلہ جاری

گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی ایک بار پھر کوئٹہ کا علمدار روڈ زائرین سے کھچا کھچ بھر چکا ہے۔

 ذرائع کے مطابق اس وقت کوئٹہ میں زائرین کی ساڑھے تین سو سے زائد بسیں موجود ہیں، اور زائرین کو تفتان بھجوانے میں سست روی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ میں زائرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہےاوراربعین امام حسین علیہ السلام میں شرکت کرنے کے لئے عراق جانے والے زائرین کا بڑا کانوائے ابھی روانہ نہیں ہوسکا ہے تاہم کئی چھوٹے قافلوں کو تفتان روانہ کیا جا چکا ہے۔ اور اس طرح چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام میں شرکت کے لیے پاکستان بھر سے زائرین تفتان کے راستے ایران پہنچنے کا سلسلہ بالآخر مسائل و مشکلات کے باوجود شروع ہو گیا اور اب تک ہزاروں پاکستانی زائرین جن میں مرد و خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، تفتان کے راستے ایران کے سرحدی شہر زاہدان پہنچے جہاں ایران کے غیور شیعہ اور سنی عمائدین اور عوام نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

ایران کے صوبہ سیستان وبلوچستان میں اربعین کمیٹی کے سکریٹری رضا بختیاری کا کہنا ہے کہ ایام محرم اور خاص طور پر اربعین کے موقع پر ایران آنے والے  پاکستانی زائرین کی تعداد کافی بڑھ جاتی ہے ۔

رضا بختیاری نے کہا کہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں اربعین کمیٹی قیام و طعام ، ٹرانسپورٹ اور میڈیکل جیسی اہم خدمات زائرین کو فراہم کررہی ہے -

انہوں نے کہا کہ اربعین حسینی میں شرکت کے لئے کربلائے معلی جانے والے پاکستانی زائرین کو جو زمینی راستے سے ایران میں داخل ہوں گے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے پانچ ہزار حسینی خدام اور رضاکار پوری طرح تیار ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے زائرین اربعین، ایک رات زاہدان میں قیام کرنے کے بعد دوسرے دن عراقی سرحد کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔

گذشتہ برس پینسٹھ ہزار سے زائد پاکستانی زائرین اربعین حسینی میں شرکت کے لئے ایران کے راستے عراق گئے تھے - اور اس سال ان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ 

نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب با وفا کا چہلم بیس صفر کو منایا جاتا ہے جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ہر سال کروڑوں زائرین کربلائے معلی پہنچتے ہیں اور اربعین حسینی کے پیدل مارچ میں شرکت کرکے نواسہ رسول کا غم مناتے ہیں۔