امام خمینیؒ کی30 ویں برسی کی مناسبت سے علامہ سید ساجد علی نقوی کا خصوصی پیغام

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام خمینیؒ کی ذات کا ہر پہلوجامع اور روشن ہے۔ وہ علم میں مرجع اعلی اور مجتہد اعظم، میدان تصنیف میں الحکومتہ الاسلامیہ اور اس جیسی کئی بیش بہا علمی یادگاروں کے مصنف ،اسلامی تاریخ اور فقہ کے تمام موضوعات پر انتہائی دسترس رکھنے والے شخص تھے۔

  قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی ؒکی 30 ویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ امام خمینیؒ اس صدی کے عظیم مفکر اور اسلامی معاشرے کی برجستہ علمی و انقلابی شخصیت ہیں جنہوں نے علم و شعور اور عمل وکردار کے ذریعے مسلمانوں کی صحیح خطوط پر رہنمائی کرکے پیغمبرانہ فریضہ انجام دیا اور عوام کو اسلامی انقلاب کے ذریعہ اسلام کی صحیح اور آئیڈیل تصویر دکھائی جس کے اثرات آج بھی عالم اسلام میں بالعموم اور مملکت ایران پر بالخصوص نظر آتے ہیں۔ امام خمینی ؒ جیسی نابغہ روزگار شخصیتیں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں امام خمینی ؒ دنیائے اسلام کی ایسی معتبر شخصیت ہیں جو علمی اور تحقیقی میدان میں سرکردہ حیثیت کی حامل ہے اورسیاسی و عملی میدان میں بھی رہبری و رہنمائی کا عملی و مثالی نمونہ ہے۔ ایسی ہمہ جہت شخصیات ہی وقت کا دھارا اور عوام کی تقدیر بدلتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ ایک اعلی فقیہہ، عظیم مجتہد، جید مذہبی رہنما اور شخصیت نہیں بلکہ قابل تقلید سیاسی قائد، مثبت اور تعمیری سیاست کے بانی، عالمی استعماری سازشوں کو بے نقاب کرنے والے، مسلمانوںکو اپنے نظریات اور عمل کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پرونے والے، عالم اسلام کو اس کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے والے، امت مسلمہ کو اس کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے چہرے شناخت کرانے والے اور دنیا کو اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرمیدان میں ارتقاءکے مراحل طے کرنے کی مثال پیش کرنے والے عظیم انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینیؒ نے طویل جلاوطنی کے باوجود ایران کے عوام کی تربیت اور رہنمائی اس انداز میں کی کہ وہ پرامن اور شعوری تحریک کے ذریعے کامیاب ہوئے۔

     علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام خمینیؒ کی ذات کا ہر پہلوجامع اور روشن ہے۔ وہ علم میں مرجع اعلی اور مجتہد اعظم، میدان تصنیف میں الحکومتہ الاسلامیہ اور اس جیسی کئی بیش بہا علمی یادگاروں کے مصنف ،اسلامی تاریخ اور فقہ کے تمام موضوعات پر انتہائی دسترس رکھنے والے، زہد وتقوی اور اصلاح نفس کی منزل پر فائز، عابد وشب زندہ دار ،اصلاح معاشرہ کے لیے عملی طور پر سرگرم، اسلام پر جدید اور گہری تحقیق اور تازہ ریسرچ رکھنے والے دینی قائد، اسلامی نظریات کے مطابق حکومت اسلامی کی داغ بیل ڈالنے والے رہنماءتھے۔ امام خمینیؒ کے دئیے ہوئے نظام مملکت اور معاشرت کے بعد عالمی سطح پر موجود اس پروپیگنڈے کا خاتمہ ہواکہ اسلام کے پاس مملکت چلانے یا عصر جدید کے تقاضوں کے مطابق کوئی لائحہ عمل یا نظام نہیں ہے آپ نے نظریہ ولایت فقیہہ اور حکومت اسلامی کا ڈھانچہ پیش کرکے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ اسلام میں جامع ضابطہ حیات موجود ہے۔