۲۳ کی رات شب قدر/ شب قدر کی فرصت کو غنیمت سمجھنا

جیسے کہ پہلے گزرچکا ،زیادہ امکان یہی ہے کہ شب قدر ماہ مبارک رمضان کی ٢٣ رات میں ہو لہٰذا ہم یہاں ایسی روایات ذکر کر رہے ہیں جو ٢٣ کی رات کو شب قدر قرار دیتی ہیں۔،

 محمد بن حمران نے سفیان بن سمط سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں نے امام صادق سے ماہ رمضان میں امید دلانے والی مخصوص راتوں کے بارے میں پوچھا ،امام نے فر مایا: ١٩،٢١ اور ٢٣ کی راتیں، میں نے کہا: اگر انسان کوسستی یا کوئی مشکل پیش آجا ئے تو ان تین میں کس رات کو اخذ کرے اور اس پہ اعتماد کر ے امام نے فرمایا: ٢٣ کی رات۔

 

اس طرح عبد اللہ بن بکیر کی روایت میں ہے کہ زرارہ نے اس روایت کو امام باقر یا امام صادق سے نقل کیا ہے کہ جس میں امام نے ماہ مبارک رمضان کی راتوں کی ان راتوں کے بارے میں سوال کیا جن میں غسل مستحب ہے ، توامام نے فرمایا: انیسویں رات ، اکیسویں رات اور تئیسویں رات۔ پھر امام نے فرمایا: تئیسویں رات، شب جھنی ہے اور اس کی حکایت یوںہے کہ جہنی نے رسول اکرمۖ سے عرض کیا: میرا گھر مدینہ سے دور ہے ( لہٰذا میں معذرت چاہتا ہوں کہ میں ان چند راتوں کی بیداری کی خاطر مد ینہ نہیں آسکتا ہوں )(۱)لہٰذا مجھے ایسی رات کے بارے میں بتا ئیںجس میں مدینہ آ سکوں۔ حضرت رسول اکرمۖ نے اس شخص سے فر مایا : تئیسویں رات کو مدینہ آ جاؤ(۲) لہٰذا اس بناپر تئیسویں رات ' شب جھنی کے نام سے مشہور ہوئی ۔

اسی طرح سے عبد اللہ بن عمیر کہتا ہے کہ ایک شخص رسول خدا کی خدمت میں آ یا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے خواب میں دیکھا کہ شب قدر ساتویں رات ہے کہ جو باقی رہ گئی ہے ، رسول اکرم ۖنے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ آپ کا خواب صحیح اورتئیسویں رات کے مطابق اور موافق ہے پس جو بھی آپ میں سے چاہے کہ ماہ مبارک رمضان میں کسی رات میں قیام کرے اور شب بیداری کرے پس اسے بتائیں کہ تئیسویں رات کو بیداری کرے ۔(۳)

اسی طرح دوسری روایت میں آیا ہے کہ خلیفہ دوم نے اپنے اصحاب سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا ہے : شب قدر کو آ خری دس طاق راتوں میں تلاش کرو۔ آپ لوگوں کی نظر میں کونسی رات ہے ؟ اکثر افراد نے طاق رات کے بارے میں جواب دیا۔

ابن عباس کہتا ہے کہ خلیفہ دوم نے مجھ سے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ بات نہیں کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا :اللہ اکبر ! قرآن میں '' سبع '' کا بہت ذکر ہوا ہے خدا وند عالم نے

آسمانوں، زمینوں، طواف اور رمی جمرات کی تعدار سات رکھی ہے اور بنی نوع انسان کو بھی خداوند عالم نے سات چیزوں سے خلق کیا ہے اور سات چیزوں میں اس کارزق قرار دیا ہے۔

خلیفہ دوم نے کہا : جو کچھ تو نے یہاں کہا میں نے جان لیا لیکن یہ بات جو تم نے یہاں کی ہے کہ انسان کو سات چیزوں سے خلق کیا گیا ہے اور سات چیزوں میں ہی اس کا رزق قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ میں نے کہا کہ: خداوند متعال نے انسان کی خلقت کے سات مراحل بیان کئے ہیں:

'' ولقد خلقنا الانسان مِن سلالة مِن طِین ثم جعلناہ نطفة فِی قرار مکِین ثم خلقنا النطفة علقة فخلقنا العلقة مضغة فخلقنا المضغة عِظاما فکسونا العِظام لحما ثم انشناہ خلقا آخر فتبارک اللہ ا حسن الخالِقِین''(سورہ مؤمنون١٢،١٤)'' اور ہم نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے پھر اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ تیار رکھا ہے پھر نطفہ کو علقہ بنایاہے اور پھر علقہ سے مضغہ پیدا کیا ہے اور پھر مضغہ سے ہڈیا ںپیدا کی ہیں اور پھر ہڈ یوں پر گوشت چڑھا یا ہے پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنا دیا ہے تو کس قدر با بر کت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے''

خدا سات نعمتوں کے بارے میں جن میں انسان کا رزق قرار دیا گیا ہے . فر مایا ہے :

''انا صببنا الماء صبا ثم شققنا الارض شقا فنبتنا فیھا حبا و عنبا وقضبا وزیتونا و نخلا و حدائق غلبا و فاکھة و ابا''(سورہ عبس ،٢٥۔٣١ ) ''بیشک ہم نے پانی بر سایا ہے پھر ہم نے زمین کو شگافتہ کیا ہے پھر ہم نے اس میں دانے پیدا کئے ہیں اور انگور اور تر کا ریاں اور زیتوں اور کھجور اور گھنے گھنے باغ اور میوہ اور چارہ''

پس میں اس کو تئیسویں ماہ مبارک رمضان سمجھتا ہوں اس کے بعد خلیفہ دوم نے کہا: تم لوگ اس جوان کے مانند لانے سے عاجز ہوجس کی داڑھی ابھی تک نہیں نکلی اور پھر کہا : اے ابن عباس تمہاری رائے میری رائے سے متفق ہے پھر اس کے شانے پر ہاتھ رکھے ہوئے کہا : تم علم ودانش کے لحاظ سے لوگوں میں کچھ کم نہیں ہو (۴)

حضرت علی سے مروی ہے کہ پیغمبر اکرمۖ ماہ مبارک رمضان کے آ خری دس دنوں میں اپنا بستر جمع کرتے تھے اور ماہ مبارک کے آخری ایام کو عبادت میں مشغو ل ہو تے تھے اور تئیسویں رات گھر کے تمام افراد کو شب بیداری کا حکم دیتے تھے اور جن پر نیند کا غلبہ ہوتا تھا ان پر پانی چھڑکا کرتے تھے تا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ شب قدر کے فیض محروم ہو جائیں.(۵)

اس مبارک شب میں نیز حضرت فاطمہ زہرا گھر کے کسی فرد کو بھی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ سو جائے . شب قدر سے پہلے والے دن ان کو سونے کی دعوت دیتی تھیں تا کہ شب قدر کی رات کو احیاء میں بسر کریں اور اس رات غذا ان کو کم دیتی تھیں اور فر ماتی تھیں : محروم ہے وہ انسان جو آ ج کی شب سے محروم ہو جائے .(۶)

ایک اور روایت میں آ یا ہے کہ حضرت امام صادق ایک شب قدر میں سخت بیمار ہو گئے امام نے اصحاب سے فر مایا کہ میرا بستر مسجد میں لے جاؤ اصحاب نے امام کے حکم کی تعمیل کی

اور امام نے پوری رات صبح تک مسجد میں ذکر و عبادت میں بسر کی ۔(۷)

ایک اور روایت میں امام صادق سے مروی ہے کہ فر مایا جو شخص شب قدر میں سورہ قدر ' روم اور عنکبوت کی تلاوت کرے خداوند عالم اس کو بخش دے گا ۔(۸)

ایک اور معتبر روایت میں آ یا ہے کہ حضرت امام باقر تئیسویں شب قدر کوبیداری میں گزارتے تھے ایک دن ایک عرب شخص نے امام باقر سے پو چھا کہ ہم شب قدر کوکیسے پہچانیں؟ امام نے فر مایا: ماہ مبارک رمضان کے داخل ہوتے ہی ہر شب سو مرتبہ سورہ حم اور سورہ دخان کی تلاوت کرو اور جب تئیسویںکی رات آئے گی تو جو سوال تو نے پوچھا ہے اس کا جواب تمہیں مل جائے گا ۔(۹)

حمزہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ میں قبیلہ بنی سلمہ کی جماعت میں سے تھا انہوں نے کہا کہ : کون مدینہ جائے اور حضرت رسول اکرم ۖ سے شب قدر کے بارے میں پو چھے گا؟ میں نے کہا کہ میں جاؤں گا اس کے بعد میں چل پڑا یہاں تک کہ میں رات میں مدینہ پہنچا حضرت کے گھر کھانا کھانے کے بعد ایک ساتھ ہم مسجد میں گئے ،حضرت رسول اکرمۖ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں کو ئی کام ہے ؟ میں نے کہا : اے خدا کے رسول! قبیلہ بنی سلمہ نے مجھے یہاں ب بھیجا ہے تا کہ میں آ پ سے یہ پو چھوں کہ شب قدر کون سی رات ہے ؟ حضرت نے فر مایا: آج کی رات مہینہ کی کونسی رات ہے ؟ میں نے عرض کیا: بائیسویں رات ہے حضرت نے فرمایا: کل کی رات تئیسویں رات ہے اور یہی شب قدر ہے۔ (۱۰)

۱۔ وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،ج ٧،ص ٢٥٩

۲۔من لا یحضرہ الفقیہ ، ابن بابویہ،ج٢ ،ص٥٠٢

۳۔من لا یحضرہ الفقیہ ، ابن بابویہ،ج٢ ،ص٥٠٢

۴۔مجمع البیان ج ٢٧ ،ص ٢٠١،٢٠٢

۵۔معارف ومعاریف ،سید مصطفی حسینی،ج ٤ ص ١٧٦٢

۶۔بحار الانوار،ج ٩٧ ،ص ٤

۷۔مفاتیح الجنان ،شیخ عباس قمی

۸۔تفسیر ابو الفتوح رازی ،ج ٢٠

۹۔تفسیر جامع ،آیت اللہ ابراہیم بروجردی،ج ٧ ص ٢٦٠

۱۰۔تفسیر سورہ قدر ،محمد رضا حاج شریفی ،ص ٥١