سعودی عرب میں 37 مسلمانوں کو تہ تیغ کئے جانے کی ایران کے اہلسنت ائمہ جمعہ و جماعات کی جانب سے مذمت

جنوبی ایران کے صوبے بوشہر کے مختلف شہروں اور قصبوں کے ائمہ جمعہ و جماعات، علما کونسل کے اراکین اور فتوی کمیٹی نے سعودی عرب میں سینتیس مسلمانوں کے سر قلم کئے جانے کی مذمت کی ہے۔

 جنوبی ایران کے صوبے بوشہر کے مختلف شہروں اور قصبوں دیہاتوں کے ائمہ جمعہ و جماعات، علما کونسل کے اراکین اور فتوی کمیٹی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں سینتیس بے گناہ شہریوں کے سر قلم کئے جانے سے متعلق آل سعود حکومت کا غیر شرعی و غیر منطقی اقدام اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ سعودی حکام انسانی  زندگی کو ہرگز اہمیت نہیں دیتے۔

جنوبی ایران کے صوبے بوشہر کے مختلف شہروں اور قصبوں دیہاتوں کے ائمہ جمعہ و جماعات، علما کونسل کے اراکین اور فتوی کمیٹی نے سعودی عرب کی آل سعود حکومت کے اس گھناؤنے جرم میں امریکہ اور اسرائیل کو بھی شریک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس سلسلے میں مکمل منصفانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا امریکہ کے ایک نیوز چینل نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب میں سینتیس افراد کو سزائے موت غیر حقیقت پسندانہ طریقے سے دی گئی ہے اور ان سے زبردستی اعتراف جرم کروانے کے بعد نہایت وحشیانہ طریقے سے ان کے سر قلم کئے گئے ہیں۔

سی این این نے کہا ہے کہ ان بے گناہ شہریوں سے ایذائیں دے کر اعتراف جرم کروایا گیا اور انھیں من گھڑت الزامات کے تحت تہ تیغ کیا گیا۔

سعودی عرب کی آل سعود حکومت کا کہنا ہے کہ ان افراد نے خود اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے تاہم مکہ ، مدینہ اور ریاض نیز قصیم، عسیر اور الشرقیہ صوبوں میں سزائے موت پانے والے سعودی شہریوں کی دستاویزات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ان ملزموں نے عدالت کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے اور بارہا صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ان پر دباؤ اور انھیں ایذائیں دے کر زبردستی جرائم کا اعتراف کروایا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے تئیس اپریل کو سعودی عرب میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزامات کے تحت سینتیس افراد کے سزائے موت دیئے جانے کا اعلان کیا تھا۔

سزائے موت پانے والے سینتیس افراد میں سے تینتیس افراد کا تعلق سعودی عرب کی شیعہ اقلیت سے تھا۔

 آل سعود حکومت ہمیشہ اپنے مخالفین کی سرکوبی کے لئے ان پر مختلف قسم کے الزامات منجملہ دہشت گردی کا بے بنیاد الزام لگا کر انھیں تہ تیغ کر دیتی ہے۔

بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں نے بھی سعودی عرب میں اجتماعی سزائے موت دیئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے سینتیس افراد کو سزائے موت دیئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے کیس کی سماعت کے طریقہ کار اور ملزمان سے جبری اعترافی بیان لینے کے لئے ایذا رسانیوں سے متعلق رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت پر سر قلم کر کے عمل درآمد سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی حکام انسانی جانوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور وہ سزائے موت کو اپنے مخالفین اور شیعہ مسلمانوں کی سرکوبی کے ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔