دہشتگردی کیخلاف مضبوط تعاون پاک ایران ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہئے: ایرانی سفیر

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسداد دہشتگردی پر مضبوط تعاون اور تیسرا فریق جو دہشتگردی اور انتہاپسندی کا حامی ہے، کے خلاف اقدامات پاک ایران مذاکرات اور مشاورت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہونے چاہئیں.

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، تفصیلات کے مطابق، ان خیالات کا اظہار مہدی ہنردوست نے اسلام آباد پالیسی انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام پاک ایران تعلقات پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ایران اور پاکستان آپس میں مل کر دہشتگردی میں ملوث قوتوں کے عزائم ناکام بناسکتے ہیں.

ہنر دوست نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں، پاک ایران باہمی مذاکرات میں انسداد دہشت گردی تعاون اولین ایجنڈا ہونا چاہئے.

ایرانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکرات اور مشاورت کریں بالخصوص دوطرفہ تعلقات کے ان مخالف تیسرے فریق سے ہوشیار رہنا ہوگا جن کا مقصد دہشتگردی اور انتہاپسندی کا فروغ ہے.

انہوں نے کہا کہ سیستان و بلوچستان میں گزشتہ ماہ بم دھماکہ ہو یا سرحدی محافظوں کا اغوا، ان واقعات میں تیسری قوت کا ہاتھ خارج از امکان نہیں لہذا دونوں ممالک مل کر دہشت گردی میں ملوث تیسری قوتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں.

مہدی ہنردوست نے مزید کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ ان تمام امور پر رابطے میں ہے. صدر ڈاکٹر روحانی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حالیہ ٹیلفونک گفتگو میں سرحدی سلامتی بہتر بنانے پر تعاون پر اتفاق کیا.

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی گنجائش موجود ہے. ایران کو گوادر میں عرب سرمایہ سرمایہ کاری پر کوئی تشویش نہیں. ایران کو پاکستان سے کسی بھی ملک کے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں.

ہنردوست نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پاکستان مسلم اْمّہ کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کو فروغ دے گا.

انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کی معیشت کو نئی جلا بخش دے گ. ہمیں گیس لائن منصوبے پر پاکستان کے مثبت اشارے کا انتظار ہے.

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ گوادر اور چابہار بندرگاہیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں جبکہ دونوں پورٹس سے فیری سروس کے آغاز سے تجارت فروغ پائے گی اور اس حوالے سے ایران اور پاکستان مذاکرات کررہے ہیں.