چند ڈالروں کے عوض ایران جیسے مخلص دوست کو ناراض نہیں کرنا چاہیے

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے، جس نے ہمیشہ پاکستان سے دشمنی رکھی، جنگیں لڑیں مگر منہ کی کھائی چونکہ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت ایمان کی ہے جوکہ بت پرست دشمن ہندو کے پاس نہیں، پھر یہ کہ افواج پاکستان کا جذبہ شہادت بھی ہمیں بھارتی فوج سے ممتاز کرتا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے حملے کے باعث پاکستانی قوم متحد ہو گئی ہے، تمام سیاسی مذہبی جماعتیں اور وفاق المدارس بھارت کیخلاف یک جان ہیں جبکہ پاک فوج کو 20 کروڑ عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اتحاد کی اس فضا میں حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے قریبی ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے بہتر دوستانہ تعلقات قائم ہوں، امریکی حمایت یافتہ ممالک سے محض ڈالروں کی خاطر ایران سے تعلقات خراب نہ کئے جائیں۔ یہ قومی سلامتی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

جامعة المنتظر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے، جس نے ہمیشہ پاکستان سے دشمنی رکھی، جنگیں لڑیں مگر منہ کی کھائی چونکہ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت ایمان کی ہے جوکہ بت پرست دشمن ہندو کے پاس نہیں، پھر یہ کہ افواج پاکستان کا جذبہ شہادت بھی ہمیں بھارتی فوج سے ممتاز کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور ایئر فورس کا انڈیا کو جوابی اقدام نہایت حوصلہ افزاء ہے۔ امید ہے اب دشمن دوبارہ جرات نہیں کرے گا۔ علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ ہمارے حکمران اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، فقط چند ارب ڈالروں کی خاطر کسی دُور کے ملک کو دیرینہ دوست ہمسایہ ملک پر ترجیح دینا دانشمندی نہیں، افغانستان اور ایران ہمارے مسلم برادر ممالک ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا اور گیس ہماری دہلیز تک پہنچا دی لیکن حکومتوں کے غلط فیصلوں کے باعث دور کے ملک سے بحری جہازوں کے ذریعہ مہنگی گیس خریدی گئی۔

ایران ہمارا بہترین ہمسایہ ہے گذشتہ دنوں ہماری مغربی سرحدکے قریب اس کے 40 سیکورٹی اہلکار دہشتگردی کا نشانہ بنائے گئے، اس حوالے سے ایرانی حکومت اور فورسز کے تحفظات ہماری حکومت کو دور کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اسلامی ممالک سے دوستانہ تعلقات ہماری ترجیح ہے تو ایران جیسے بہترین ہمسایہ برادر ملک سے اچھے تعلقات کو یقینی کیوں نہیں بنایا جا رہا۔