پاک فوج نے دوران حراست کسی قسم کا کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا: بھارتی پائلٹ ابھی نندن

 بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے کہا ہے کہ پاک فوج نے اسے جسمانی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جب کہ بھارتی میڈیا نے زہر افشانی کی ہے کہ پاکستان میں اسے ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 پاکستان نے بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کردیا تاہم بھارتی میڈیا سے اپنے ہی پائلٹ کا پاکستان میں دیا گیا بیان ہضم نہیں ہورہا اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق ابھی نندن نے بھارتی فضائیہ کے حکام سے ملاقات میں بتایا کہ دوران حراست پاکستان میں اسے ذہنی تشدد کا نشانا بنایا گیا تاہم اس پر کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا گیا۔

ابھی نندن کو جب بھارت کے حوالے کیا گیا اس وقت بھارتی اہلکاروں نے ہاتھوں میں بندوقیں تھام رکھی تھیں جیسے فضائیہ کے ونگ کمانڈر کی بجائے کسی مجرم کو لے جایا جارہا ہو جب کہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو آزادی سے پریڈ کے دوران سے بارڈر تک جانے دیا تھا۔

بھارت پہنچنے پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کا فل باڈی چیک اپ، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین کیا گیا اور اہلخانہ سے صرف 9 منٹ کی ملاقات کرائی گئی جب کہ بھارتی وزیر دفاع سے ملاقات میں بھی فاصلے پر رکھا گیا۔

رہائی سے قبل ایک ویڈیو بیان میں ابھی نندن نے کہا تھا کہ میں ٹارگٹ تلاش کررہا تھا کہ اس دوران پاک فضائیہ نے میرے طیارے کو ہٹ کیا، میں نے خود کو ایجکٹ کیا جس کے بعد میرا طیارہ تباہ ہوگیا۔

ابھی نندن نے کہا کہ پیراشوٹ کے ذریعے میں پاکستانی سرزمین پر گرا تو میرے پاس پستول موجود تھی،اس وقت وہاں لوگ بہت زیادہ تھے ان سب کا جوش بہت بلند تھا،میں نے پستول گرائی اور بھاگنے لگا، اس دوران پاک فوج کے ایک کپتان اور جوان آئے جنہوں نے میری جان بچائی۔

واضح رہے کہ 27 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے مار گرائے تھے جس میں ایک طیارے کا ملبہ آزاد کشمیر اوردوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا تھا۔ پاکستان کی حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو پاک فوج نے مشتعل ہجوم سے بچاتے ہوئے حراست میں لے لیا تھا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو امن کے فروغ کیلیے بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔