امریکہ اسرائیل و آل سعود نے پاکستان میں دہشتگردی کی بنیاد رکھی

شہدائے سانحہ سہون کی برسی کے موقع پر مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے شہداء سانحہ سیہون کی یاد میں عظیم الشان اجتماع کا اہتمام درگاھ حضرت قلندر شہباز رح کے صحن میں کیا گیا ۔

اس اجتماع میں اجتماع سے علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ مختیار امامی، علامہ مقصود ڈومکی، سید علی حسین نقوی اور دیگر نے خطاب کیا۔

ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے خطاب میں کہا کہ ماضی حکمرانوں کی غلطیوں کے سبب سانحہ شکار پور ،جیکب آباد کے شہداء کے قاتلوں کو اب سزا نہیں ملا، گزشتہ دو سالوں میں وزیر اعلی مراد علی شاہ اپنے حلقہ میں شہدائے سانحہ سہون کے قاتل پکڑنے سے قاصر رہے، نا اہل سندھ حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کے بجائے مساجد و امام بارگاہوں سے سیکورٹی ہٹا لی گئی ہے، سانحہ شکار پور وارثان شہداء کیا ہوا 21 نکاتی مطالبات اب تک پورے نہیں ہوئے، سانحہ شکار کے شہدائے کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا، سندھ بھر میں مساجد و امام بارگاہوں اور رہنماوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا: امریکہ اسرائیل و آل سعود نے پاکستان میں دہشتگردی کی بنیاد رکھی، سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں قومی مفادات کے برخلاف ہیں، اسرائیل کا وجود عالم اسلام کیلئے بڑا خطرہ ہے ملکی عوام اسرائیل کے وجود کے خلاف ہے ۔

ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی سیکرٹری سیاسیات سید علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں داعش کا وجود بیرونی ایماں پر پھیلایا جارہا ہے، آج بھارت کی جانب سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں امریکی، اسرائیلی، بھارتی ایمان پر دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے، سانحہ شکار پور اور سانحہ سہون کے پکڑے جانے والے دہشتگردوں کے فورا مقدمات چلائے جائیں، سانحہ شکار پور میں ملوث دہشتگردوں کو رہا کرنا ریاست نا اہلی ہے، شہدائے سانحہ شکار پور شہدائے کمیٹی سے کئے مطالبات کو اب تک پورا نہیں کیا گیا، صرف بہاولپور نہیں وفاقی حکومت شدت پسندی میں ملوث تمام دہشتگرد مدارس کو سرکاری تحویل میں لے، وزیر اعظم شیعہ مسنگ پرسن کی بازیابی کیلئے خصوصی نوٹس لیں۔

علامہ علی انور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن طاقتیں دہشتگردی کے زریعہ ملت جعفریہ کو ختم کرنے کہ مغموم سازشیں کررہی ہیں، بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں ہمیں یہ مٹی اپنے خون سے زیادہ عزیز ہے، اس ملک میں کسی بھی اندرونی و بیرونی دشتگرد کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سانحہ سہون شیداء کے خانوادوں کے ساتھ کھڑے ہیں، سانحہ سہون شہداء کے خانوادوں کو جب تک انصاف نہیں مل جاتا ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

علامہ مبشر حسن نے کہا کہ 2 سال قبل درگاہ حضرت لال شہباز قلندررحہ کی مزار پر دہشتگردی کرنے والے انسان نہیں تھے۔ مزید کہا کہ امریکہ ، اسرائیل ، آل سعود عالم اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔

علامہ دوست علی سعیدی نے کہا کہ کربلا ہمیں درس استقامت دیتی ہے، نجف و کربلا والے اپنی جانیں دینے سے گھبراتے نہیں، مزار قلندر پر دہشتگردی کرنے والے اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے، آج اہلبیت کے ماننے والے پہلے سے زیادہ تعداد میں ولی اللہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں۔