غم حسینؑ ضرورت ہے ہر زمانے کی!‎

 

چونکہ امسال عزئے امام حسینؑ سے جڑی ہوئی ہر چیز محدود پیمانے پر انجام پارہی ہے،سبیلوں کا انتظام نہیں ہے ۔تبرک کی تقسیم بھی متاثرہوئی ہے ۔عزاداروں کے لئے صدقہ اہلبیتؑ ’دسترخوان‘ کی صورت میں موجود نہیں ہے ۔بینر پوسٹر اور ہورڈنگ کے اخراجات بھی محفوظ ہیں ۔اور بھی ایسے ہی نہ جانے کتنے انتظامی امور سے جڑی ہوئی چیزیں ہیں جن پر انجمنیں سالانہ لاکھوں روپے خرچ کرتی رہی ہیں اور ان شاءاللہ آئندہ بھی کریں گی ،لیکن امسال ان محفوظ اخراجات کو بہترین استعمال کیا ہوسکتاہے اس پر غورو فکر کرنا نہایت ضروری ہے

 کورونا کے اس وبائی عہد میں عزاداری سید الشہداؑہر ممکنہ طریقے سے منائی جارہی ہے ۔ہماری قوم کے نوجوانوں نے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ محدود وسائل کے ساتھ بھی اسی تزک و احتشام کے ساتھ عزائے امام حسینؑ مناسکتے ہیں ،جیسے پہلے عام حالات میں منائی جاتی تھی ۔ظاہر ہے امام بارگاہوں میںہرسال کی طرح عزاداروں کی بھیڑ نہیں ہے ،جلوسہائے عزا پر پابندی ہے ،سبیلوں اور تبرک کا اہتمام نہیں ہے مگر عوامی پلیٹ فارم کا جتنا اچھا اور موثر استعمال اس وبائی عہد میں دیکھاگیاہے اس سے استعماری طاقتیں اور ہمارے ملک کی یرقانی تنظیمیں بھی انگشت بدندا ں ہیں۔سوشل میڈیا سے لیکر دیگر ذرائع ابلاغ پر امام حسینؑ کا غم محیط ہے ،جو اس بات کی دلیل ہے کہ عزاداری نہ کبھی رکی تھی اور نہ رک سکتی ہے!

    دشمن عزا کو معلوم ہونا چاہے کہ عزائے امام حسینؑ ایک دائمی و دوامی عمل ہے جسے اجتماعات ،جلسات ،اوررقومات کی حاجت نہیں ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ نہ جانے کتنے ایسے زمانے گذرچکے ہیں کہ جب عزائے امام حسینؑ پر پوری طرح پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی اور منصوبہ سازی ہوئی عزاداری سیدالشہداؑ کو دنیا سے ختم کردیا جائے ،مگر آج ان منصوبہ سازوں کا اتا پتہ نہیں ہے مگر عزائے امام حسینؑ اسی شان و شوکت کے ساتھ منائی جارہی ہے ۔بلکہ امتداد زمانہ کے ساتھ اس کی شان و عظمت میں مزیداضافہ ہی ہواہے ۔آج بھی عزاداری کے دشمن کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ عبادت تو اس وقت بھی نہیں رکی جب زیارت امام حسینؑ کے عوض ماؤں سے ان کی گودیوں کے پالوں کو طلب کیا گیا ۔ماؤں نے اپنے بچوں کی قربانیاں دیکر عزائے امام حسینؑ کی حفاظت کی اور ظالموں کو یہ واضح پیغام دیاکہ شیعان اہلبیتؑ کے لئے اس غم کی یادگار منانے سے زیادہ کوئی دوسری چیزاہمیت نہیں رکھتی ۔کورونا کے اس وبائی عہد میں ہم مراجع کرام کی طرف سے جاری کی گئی گائیڈ لائن کے پابند ہیں اور اسی کے مطابق عزاداری کے تمام اعمال انجام پارہے ہیں ۔ملک کا قانون ہمارے لئے محترم ہے اور مراجع کرام کا بھی یہ حکم ہے کہ اپنے ملک کے قانون کی پاسداری ہم پر فرض ہے ،لیکن اگرکوئی سفاک ،ظالم ،جابر ،دشمن امام حسینؑ یہ سمجھتاہے کہ اس کی عائد کردہ نارواپابندیوں کی بنیاد پر غم کربلا اور عزائے سید الشہدا کا عمل ماند پڑجائے گا تو اسے بھیانک مغالطہ ہے ۔یہ غم نہ کبھی ماند پڑا ہے اور نہ پڑے گا ۔ظالم حکومتیں مٹ گئیں ،سفاک بادشاہوں کے تختے پلٹ گئے ،وسیع و عریض سلطنتیں تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئیں، مگر غم کربلا کا آفتاب آج بھی اسی طرح تابندہ ہے ۔اس غم کے دشمن کو اپنا ذہنی علاج کروانا چاہئے اور اس کے بعد تاریخ کا مطالعہ کرے تاکہ اسے عزاداری کی اہمیت اور عزاداروں کی قربانیوں کا صحیح علم ہوسکے ۔

    چونکہ امسال کورونا وائرس نے پوری دنیا کی معیشت اور ترقیاتی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیاہے لہذا اس مہلک وبا سے عزاداری سید الشہداکے عمل کو بھی ظاہری طورپر متاثر ہونا تھا ۔مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ غم حسین جلسے جلوسوں ،اجتماعات اورزمان و مکان کا محتاج نہیں ہے ۔ہر عزادار کا دل فرش عزا ہے اور اس کی آنکھیں ماتم کدہ۔اگر گھروںسے نکلنے پر مکمل پابندی بھی عائد کردی جائے تب بھی یہ غم اسی شان و عظمت کے ساتھ منایا جائے گا جیساکہ ہمیشہ منایا جاتارہاہے۔کیونکہ امام حسینؑ کی شہادت پر انسان ہی نہیں جن و ملک گریہ کرتے ہیں ۔جن و ملک کی عزاداری کورونا وارئرس کی پابندیوں سے آزاد ہے ۔مگر ہمارا فریضہ اس وبائی عہد میں مزیدبڑھ جاتاہے ۔ہمیں چونکہ جلسے اور جلوسوں کی اجازت نہیں ہے مگر مقصد امام حسینؑ اور فلسفہ ¿ شہادت کو عام کرنے کے لئے لامحدود وسائل موجود ہیں ۔ہمیں اس وقت سوشل میڈیا کو بہترین اندازمیں استعمال کرنا چاہئے اور عزاداران امام حسینؑ اس پلیٹ فارم کا اچھا استعمال کررہے ہیں۔آن لائن مجالس اور نوحہ خوانی کے ذریعہ گھروں میں قید عزاداروں کے لئے رزق غم حسینؑ کی فراہمی ایک عظیم عمل ہے ۔جن لوگوں کو یہ توفیق حاصل ہورہی ہے کہ وہ اس وبائی عہد میں بھی گھروں میں مقید افراد کے لئے مجالس اور نوحہ خوانی کا اہتمام کررہے ہیں ،یہ ان افراد کو اللہ کی طرف سے رسول اور اسکے اہلبیتؑ کے صدقے میں خصوصی عطا ہے کہ وہ ہزاروں لاکھوں افراد کے لئے عزائے سید الشہداکا ذریعہ قرار پارہے ہیں۔اس عہد میں سوشل میڈیا پر مقصد شہادت امام حسینؑ کو زیادہ سے زیادہ موثر انداز میں فروغ دیا جائے۔کربلا کے واقعہ کو دوسروں تک پہونچانے کی کوشش کی جائے تاکہ دوسری قومیں بھی مزید کربلا اور اس کے پیغام سے آشنائی حاصل کرسکیں۔اس کے علاوہ دیگر موثر طریقوں کا بخوبی استعمال کیا جاسکتاہے تاکہ امسال ہماری عزاداری کا کینوس محدود ہوکر نہ رہ جائے۔

    چونکہ امسال عزئے امام حسینؑ سے جڑی ہوئی ہر چیز محدود پیمانے پر انجام پارہی ہے،سبیلوں کا انتظام نہیں ہے ۔تبرک کی تقسیم بھی متاثرہوئی ہے ۔عزاداروں کے لئے صدقہ  اہلبیتؑ ’دسترخوان‘ کی صورت میں موجود نہیں ہے ۔بینر پوسٹر اور ہورڈنگ کے اخراجات بھی محفوظ ہیں ۔اور بھی ایسے ہی نہ جانے کتنے انتظامی امور سے جڑی ہوئی چیزیں ہیں جن پر انجمنیں سالانہ لاکھوں روپے خرچ کرتی رہی ہیں اور ان شاءاللہ آئندہ بھی کریں گی ،لیکن امسال ان محفوظ اخراجات کو بہترین استعمال کیا ہوسکتاہے اس پر غورو فکر کرنا نہایت ضروری ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس سال جہاں دنیا کااقتصادی نظام تہس نہس ہوکر رہ گیاہے ،عزاداروںکے اقتصادی و معاشی معاملات بھی بہرحال متاثرہوئے ہیں،لہذا ایسے عزادار وں کی مدد کرنا حسینیؑ فریضہ ہے ۔ایسے عزاداروں کی نشاندہی بہت مشکل امر نہیں ہے کیونکہ ان علاقوں میں موجود انجمنیں اور ذمہ دار افراد کو ہرعزادار کے حالات سے اچھی طرح آگاہی حاصل ہے ،لہذا ان پر فرض ہے کہ امام حسینؑ کے عزادارو کی مشکلات کو حل کیا جائے ۔

    جن علاقوں میں ضلع انتظامیہ نے علم ،تعزیہ اور دیگر تبرکات کو گھروں میں نصب کرنے اور ان کے اٹھانے پر پابندی لگارکھی ہے ،وہاں بھی ایسے ذرائع کا تلا ش کرنا ضروری ہے کہ عزادار غم امام حسینؑ کو بہتر طریقے سے منایا جاسکے۔انہیں چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی بارگاہ میں مناجات کریں اور اس وبا کے خاتمے کی دعا کریں۔ساتھ ہی سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع ابلاغ کو عزائے سید الشہدا کے لئے بہترین انداز میں استعمال کریں ۔اس علاقے کے اہل ہندود،پولیس انتظامیہ اور دیگر افرادکے درمیان کربلا کے پیغام اور مقصد شہادت کو مختلف ذریعوں سے عام کرنے کی کوشش کی جائے ۔ممکن ہے ابتدا میں اس کا بہت مثبت اثر دکھائی نہ دے مگر ان شاءاللہ یہ کوشش یکسر رائیگاں نہیں جائے گی ۔آج آرایس ایس جیسی متشدد ہندوتنظیموں نے ’فیک لٹریچر ‘ اور ’فرضی تاریخ‘ کے بل بوتے ‘ ہندوؤں کو اپنے دام فریب میں الجھایاہواہے ۔پولیس انتظامیہ سے لیکر ہر سرکاری شعبے میں ان کے سدھائے ہوئے افراد براجمان ہیں ،اس لئے مشکلات کا سامنا یقینی امر ہے ،البتہ ہم انہی کی طرز پراسلام اور عزائے امام حسینؑ سے متعلق ’حقیقی لٹریچر‘ اور ’ سچی تاریخ‘ سے انہیں باخبر کرنے کی تگ و دوکریں تاکہ ان کے ذہنوں پر پڑے ہوئے جہالت ،لا علمی اور اندھ بھکتی کے جالوں کو صاف کیا جا سکے ۔یہ کام اسی فنڈ سے ہوسکتاہے جو امسال کورونا کی وجہ سے انجمنوں کے پاس محفوظ ہے ،یا انہوں نے متعلقہ افراد سے جمع کرنے کی کوشش نہیں کی ۔اس فنڈکا اگر بہترین استعمال نہیں ہوسکا تو ہم بارگاہ امام حسینؑ میں جواب دہ ہوں گے ۔

    اس کے علاوہ دیگر موثر طریقوں کواختیار کیا جاسکتاہے جن کی نشاندہی اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے ۔چونکہ ہر انسان کے سوچنے اور کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتاہے لہذا وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس وبائی عہد میں مقصد کربلا کو فروغ دینے کی دیگر اہم راہیں تلاش کرنے کے لئے آزاد ہے ۔بس ہمیں ہر وقت یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہوں یا نہ ہوں مگر اپنے زمانے کے امام(عجل اللہ تعالی ٰ شریف) کی بارگاہ میںجواب دہ ضرور ہوں گے ۔ہمیں دنیا و آخرت میں سرخروہونے کے لئے خالص نیت کے ساتھ اللہ کی خوشنودی اور ائمہ اہلبیتؑ کی رضا کے حصول کے لئے کام کرنا چاہئے ۔ساتھ ہی اس مہلک وبا کے خاتمے کے لئے دعا ضرور کریں تاکہ آئندہ سال اسی تزک و احتشام کے ساتھ غم حسینؑ منایاجاسکے جس کے لئے ہمارا ہندوستان پوری دنیا میں اپنی الگ شہرت رکھتاہے ۔

 

بقلم عادل فراز