امام علی علیہ السلام کی شہادت کا تذکرہ یہودی کتابوں میں

 

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم پیغمبروں کے جانشینوں کی پیغمبروں کے دور حیات میں سات مقام پر آزمائش کرتا ہے تاکہ ان کی اطاعت و بندگی کو جانچ سکے اور اگر وہ ان مراحل میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پیغمبروں کو حکم دیتا ہے کہ جب تک زندہ ہیں ان کو اپنا معاون و مددگار قرار دیں اور جب دنیا سے اٹھ جائیں تو انہیں اپنا جانشین بنا کر جائیں اور تمام امتوں کو پیغمبروں کی اطاعت کے زیر سایہ ان کے جانشینوں کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔

 راس الجالوت جو ایک یہودی عالم دین تھا نے امیر المومنین علی علیہ السلام کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو کی اور کچھ سوالات پوچھے اور درست جوابات ملنے پر مسلمان ہو گیا تھا اس گفتگو میں بہت ہی اہم نکات کی طرف اشارہ ہے اس لیے اسے مکمل طور پر یہاں نقل کرتے ہیں:

امیر المومنین جنگ نہروان سے واپس آکر کوفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں کا رہنما آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے امیر المومنین کچھ ایسی باتیں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں جن کا جواب پیغمبر یا وصی پیغمبر کے بغیر کوئی نہیں دے سکتا۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں گفتگو شروع کروں ورنہ واپس چلا جاؤں۔ فرمایا: برادر یہودی جو پوچھنا ہے پوچھ لو۔

یہودی نے عرض کیا: ہماری کتاب میں آیا ہے کہ خداوند عزو جل جب کسی پیغمبر کو مبعوث کرتا ہے تو اس کے خاندان میں سے کسی کو اس کا جانشین مقرر کر کے امت کے امور کو اس کے حوالے کرتا ہے اور امت سے عہد و پیمان لیتا ہے تاکہ وہ پیغمبر کے جانے کے بعد اس عہد و پیمان پر باقی رہیں اور اپنے عہد کے مطابق عمل کریں۔ خدا پیغمبروں کے جانشینوں کی ان کی زندگی میں بھی آزمائش کرتا ہے اور پیغمبروں کے دنیا سے جانے کے بعد بھی ان سے امتحان لیتا ہے مجھے آگاہ کریں کہ پیغمبروں کے جانشینوں کی آزمائش پیغمبروں کے دور حیات اور دور ممات میں کتنی مرتبہ ہوتی ہے اور اگر جانشین ان آزمائشوں میں کامیاب ہو جائیں تو ان کا سرانجام کیا ہوتا ہے؟

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریائے نیل میں شگاف پیدا کر دیا اور موسی کے لیے راستہ بنا دیا اگر تمہارے سوالوں کے جوابات دے دوں تو اسلام قبول کرو گے؟ یہودی نے عرض کیا: جی ہاں۔

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم پیغمبروں کے جانشینوں کی پیغمبروں کے دور حیات میں سات مقام پر آزمائش کرتا ہے تاکہ ان کی اطاعت و بندگی کو جانچ سکے اور اگر وہ ان مراحل میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پیغمبروں کو حکم دیتا ہے کہ جب تک زندہ ہیں ان کو اپنا معاون و مددگار قرار دیں اور جب دنیا سے اٹھ جائیں تو انہیں اپنا جانشین بنا کر جائیں اور تمام امتوں کو پیغمبروں کی اطاعت کے زیر سایہ ان کے جانشینوں کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔

اس کے بعد جانشینوں کو پیغمبروں کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی سات مقام پر آزمائش کرتا ہے تاکہ ان کے صبر کا اندازہ لگا سکے اور جب آزمائشوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں سعادت اور خوشبختی عطا کرتا ہے تاکہ اس کمال سعادت کے ساتھ اپنے پیغمبروں سے ملحق ہو جائیں۔

یہودیوں کے رہنما نے کہا: اے امیر المومنین صحیح فرمایا آپ نے، اب یہ بتائیں کہ آپ کو آپ کے پیغمبر کی زندگی میں کتنی مرتبہ مورد آزمائش قرار دیا گیا اور پیغمبر کے بعد کتنی مرتبہ اور سرانجام کیا ہوا؟

حضرت علی علیہ السلام نے یہودی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اٹھو چلیں تاکہ میں تمہیں اس موضوع سے آگاہ کروں بعض اصحاب بھی ساتھ چل پڑے اور عرض کیا اے امیر المومنین ہمیں بھی اس ماجرا سے آگاہ کیجئے۔

فرمایا: مجھے خوف ہے کہ تمہارے قلوب اسے برداشت کرنے کی تاب نہ رکھ سکیں۔ عرض کیا: اے امیر المومنین کیوں؟ فرمایا: ان کارناموں کی وجہ سے جو تم میں سے بہت ساروں نے انجام دئے۔

مالک اشتر اٹھے اور عرض کیا اے امیر المومنین مجھے آگاہ کیجئے خدا کی قسم میں جانتا ہوں روئے زمین آپ کے علاوہ کوئی وصی پیغمبر نہیں ہے اور ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ہمارے پیغمبر کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور ہماری گردنیں آپ کے حکم اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ کے حکم کے سامنے تسلیم ہیں۔

حضرت علی (ع) کی سات مقام پر آزمائش

حضرت علی علیہ السلام بیٹھ گئے اور اس یہودی عالم دین کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اے برادر یہودی! بے شک خداوند عالم نے پیغمبر کے دور حیات میں مجھے سات مرتبہ آزمایا ہے۔ میں یہ بات اپنی تعریف کی خاطر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ خدا کا لطف و کرم تھا کہ میں ان تمام موارد میں مطیع پروردگار رہا۔ عرض کیا: کن کن مقام پر اے امیر المومنین؟

پہلا مقام؛

فرمایا: پہلا مقام وہ تھا جب خداوند عالم نے ہمارے نبی پر پہلی وحی نازل کی اور رسالت کی ذمہ داری ان کے دوش پر رکھی اور میں اس وقت اپنے گھرانے میں سب سے زیادہ کم سن تھا اور پیغمبر کے ہمراہ رہا کرتا تھا اور ان کے کام انجام دیتا تھا پیغمبر نے خاندان عبد المطلب کے تمام چھوٹے بڑے افراد کو دعوت دی تاکہ خدا کی توحید اور اپنی نبوت کا اعلان کریں سب نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور آپ کا ساتھ دینے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا آپ سے دور ہو گئے اور آپ کو تن تنہا چھوڑ دیا دوسرے لوگوں نے بھی پیغمبر کی مخالفت شروع کر دی اور کوئی بھی آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ صرف میں تھا جو اس کم سنی میں پیغمبر پر ایمان لیا اور آپ کی مدد کا وعدہ کیا اور بغیر کسی معمولی شک و تردید کے میں نے پیغمبر کی اطاعت کا اعلان کیا تین سال تک روئے زمین کی مخلوق میں سے کوئی ایک بھی نہیں تھا جو پیغمبر کے ساتھ نماز پڑھے جو پیغمبر سے احکام الہی دریافت کرے سوائے میرے اور خدیجہ بنت خویلد کے کہ خدا ان پر رحمت کرے، اس کے بعد آپ نے اصحاب کی طرف رخ کیا اور پوچھا کیا ایسا نہیں ہوا تھا؟ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں یا امیر المومنین ایسا ہی ہوا تھا؟

دوسرا مقام

اس کے بعد فرمایا: اے برادر یہودی! دوسرا مقام وہ ہے جب تمام قریش پیغمبر کے قتل پر تل گئے اور انہوں نے دار الندوہ میں شیطان کی مدد سے یہ منصوبہ بنا لیا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی تلوار لے کر آ جائے تاکہ سب مل کر پیغمبر کا قتل کر دیں، جبرئیل نازل ہوئے اور انہوں نے پیغمبر کو اس ماجرا سے آگاہ کیا اور خود کو بچانے کی ترکیب بھی بتائی۔ جس رات قریش کو حملہ کرنا تھا اس رات پیغمبر نے مجھے اپنے بستر پر سلایا تاکہ کوئی خبردار نہ ہو کہ پیغمبر گھر میں نہیں ہیں میں پورے ذوق و شوق کے ساتھ بستر رسول پر سو گیا پیغمبر حکم الہی کے مطابق گھر سے نکل کر غار میں چلے گئے اور جب قریش کے مرد ننگی تلواریں لے کر میرے سرہانے پہنچے تو میری تلوار نے ان کی ننگی اور غیض و غضب سے بھری تلواروں کو روک دیا اور انہیں گھر سے باہر نکال دیا۔

اس کے بعد پھر امام علی علیہ السلام نے اصحاب سے پوچھا کیا ایسا نہیں ہوا؟ سب نے مل کر جواب دیا یا امیرالمومنین ایسا ہی ہوا۔

تیسرا مقام

میری تیسری منزل امتحان جنگ بدر تھی جب قریش کے بڑے بڑے سورما میدان جنگ میں مسلمانوں کو للکارنے لگے اور ان کا جواب دینے کے لیے کوئی آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہوا رسول خدا نے مجھے اور حمزہ و عبیدہ کو میدان کارزار میں بھیج دیا میں اپنے دونوں ساتھیوں سے کم سن اور کم تجربہ تھا لیکن خدا نے مجھے شجاعت بخشی اور میں نے ولید اور شیبہ کا قتل کر کے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔

اس کے بعد پھر آپ نے تصدیق کے لیے اصحاب سے پوچھا تو سب سے مل کر آپ کے کلام کی تصدیق کی۔

چوتھا مقام

حضرت علی علیہ السلام نے یہاں پر جنگ احد کا تذکرہ کیا اور مسلمانوں کی خیانت، پیغمبر اکرم کو تنہا میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ جانے اور مشرکین کی جانب سے پیغمبر کو گھیرے میں لے کر ان پر حملہ آور ہو جانے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ بھی اللہ کی جانب سے ایک میرے لیے ایک امتحان تھا کہ اتنے دشمنوں کے بیچ تنہا میں تھا جو پیغمبر کا دفاع کر رہا تھا اور اس دن ستر زخم میرے بدن پر لگے۔ آپ نے اپنے بدن سے ردا ہٹائی اور ایک ایک زخم مجمع میں موجود افراد کو دکھایا اور فرمایا کہ یہ میرے لیے باعث فخر ہے کہ میں اللہ کے رسول کے کام آسکا۔

پانچواں مقام

اس کے بعد امیر المومنین نے جنگ خندق کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی جانثاری اور فداکاری کا ذکر کیا۔ آپ نے اپنے بیان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ جب عرب کا سب سے بڑا سورما اور پہلوان عمرو بن عبد ود خندق پھاند کر میدان کارزار میں ’ھل من مبارز‘ پکارنے لگا تو مسلمانوں کے سروں پر پرندے بیٹھ گئے اور سب کے پسینے چھوٹ گئے پیغمبر اکرم نے اپنا عمامہ میرے سر پر باندھا اور ذوالفقار میرے ہاتھ میں دی خدا نے عمرو ود کو میرے ہاتھوں واصل جہنم کیا۔ یہاں پر امام علیہ السلام نے اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس زخم کو بھی دکھایا جو عمرو ود نے آپ کے سر پر وارد کیا تھا۔

چھٹا مقام

حضرت علی علیہ السلام نے اس کے بعد جنگ خیبر اور آپ کے ہاتھوں قلعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑے جانے کا تذکرہ کیا۔ اور فرمایا کہ صرف اللہ کی مدد سے میں نے اس جنگ کو جیتا اور قلعہ خیبر کو فتح کیا جسے مسلمان تین دن سے فتح نہ کرپائے تھے۔

ساتواں مقام

امیر المومنین نے آزمائش الہی کا ساتواں مقام وہ بیان کیا جب فتح مکہ سے پہلے اللہ نے خانہ کعبہ کے پاس سورہ برائت کی تلاوت کے ذریعے مشرکین سے برائت کا اعلان کروانا چاہا تو حکم ہوا اے محمد تمہارے یا تمہارے خاندان سے اس شخص کے علاوہ جو تمہارے جیسا ہو کوئی اس عمل کو انجام نہ دے تو رسول خدا نے حضرت علی علیہ السلام کا انتخاب کیا، آپ فرماتے ہیں کہ یہ کام ایسے دور میں مجھے سونپا گیا جب مشرکین مکہ اس قدر ہمارے دشمن تھے کہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتے تھے لیکن میں نے مکہ میں جا کر سورہ برائت کی تلاوت کی اور اعلان برائت کر دیا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ

بقلم خیبر تحقیقاتی ٹیم 

(جاری ہے)