امام زین العابدین علیه السلام کے القاب

امام علی زین العابدین (‏ع) سید الشھدا ء امام حسین بن علی (ع) کے فرزند ہیں اور آپکی والدہ ایران کے شاہنشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی شھر بانو ہیں ـاس اعتبار سے اپ کا سلسلہ عرب اور فارس کے حاکموں آپ کے ساتھ ملتا ہے ـ دادا امیر المومنین علی ابن ابی الطالب (ع) خلیفہ اور پیغمبر اسلام(ص) کے جانشین اور نانا ایران کا شہنشاہ تھے ـامام کی والدہ کے کئ اور نام بھی بیان ہوے ہیں : شاہ زنان ، جھان بانو ، سلافہ ، خولہ اور برہ بھی زکر ہوا ہے اور امام حسین (ع) کے ساتھ شادی کرنےکے بعد " سیّدہ النّساء " کے نام سے معروف ہوئی ـشیخ مفید (رہ) سے روایت کے مطابق حضرت امام علی ابن ابیطالب (ع) نے اپنے دور خلافت میں حریث بن جابر حنفی کو مشرق زمین میں ایک علاقے کا حاکم قرار دیا اور اس نے اپنے دور حکومت میں ایران کے شاہنشاہ یزد گرد سوم کی دو بیٹیوں کو حضرت کے پاس بیجدیا اور امام علی (ع) نے ایک [شھربانو] کو امام حسین (ع) کے نکاح میں دیا جس سے امام سجاد(ع) پیدا ہوے اور دوسری کو محمد بن ابی بکر کے نکاح میں دیا جس سے قاسم بن محمد پید ا ہوا اور اس اعتبار سے امام سجاد (ع) اور قاسم بن محمد بن ابی بکر آپس میں خالہ زاد بھائی تھے ـ (2)شایان ذکر ہے کہ قاسم بن محمد ، امام جعفر صادق (ع) کے نانا ہیں ـامام زین العابدین (ع) کے زاد گاہ کے بارے میں اکثر مورخوں نے مدینہ منورہ بیان کیا ہے مگر چونکہ اکثر مورخوں نے لکھا ہے کہ امام علی (ع) کی شھادت کے دو سال پہلے امام سجاد (ع) کی ولادت ہوئی یعنی امام علی کے دور خلافت میں اور اس دور میں آنحضرت کا سارا خاندان کوفہ منتقل ہوا تھا اور امام حسن (ع) کے صلح تک کوفہ میں ہی مستقر تھے ، اس اعتبار سے امام علی زین العابدین (ع) کا زادگاہ کوفہ ہونا چاہۓ نہ کہ مدینہ منورہ !امام علی زین العابدین (ع) کے القاب :

آپ ؑ کے القاب

آپ ؑ کے القاب اچھا ئیوں کی حکایت کرتے ہیں،آپ ؑ اچھے صفات ،مکارم اخلاق ،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے، آپ کے بعض القاب یہ ہیں:

۱۔زین العابدین:یہ لقب آپ ؑ کو آپ ؑ کے جد رسول اللہ (ص) نے دیا تھا(جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے ) کثرت عبادت کی وجہ سے آپ ؑ کو اس لقب سے نوازا گیا ،[2] آپ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپ ؑ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپ ہر عابد کے لئے زینت اور ہر اللہ کے مطیع کے لئے مایۂ فخر تھے ۔

۲۔سید العابدین:آپ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک ’’سید العا بدین ‘‘ ہے ،چونکہ آپ انقیاد اور اطاعت کے مظہر تھے ، آپ کے جدامیر المومنین ؑ کے علاوہ کسی نے بھی آپ ؑ کے مثل عبادت نہیں کی ہے ۔

۳۔ذو الثفنات:آپ ؑ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپ کے اعضاء سجدہ پراونٹ کے گھٹوں[3] کی طرح گھٹے پڑجاتے تھے ۔ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :’’میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے ،جو ایک سال میں دو مرتبہ کا ٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گھٹّے کاٹے جاتے تھے ، اسی لئے آپ ؑ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا[4] ‘‘۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ؑ نے تمام گھٹوں کو ایک تھیلی میں جمع کر رکھا تھا اور آپ ؑ نے اُن کو اپنے ساتھ دفن کرنے کی وصیت فرما ئی تھی ۔

۴۔سجاد :آپ ؑ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب ’’سجاد ‘‘ ہے[5] یہ لقب آپ ؑ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ،آپ ؑ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایاہے :’’بیشک علی بن الحسین ؑ جب بھی خودپرخدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے،آپ ؑ قرآن کریم کی ہرسجدہ والی آیت کی تلاوت کر نے کے بعد سجدہ کرتے ،جب بھی خداوند عالم آپ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپ ؑ خوفزدہ ہوتے تھے توسجدہ کرتے ،آپ ؑ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپ ؑ کو اس لقب سے یاد کیا گیا[6] ‘‘۔

ابن حماد نے امام ؑ کے کثرت سجود اور آپ ؑ کی عبادت کو ان رقیق اشعار میں یوں نظم کیا ہے : وراھب اھل البیت کان ولم یزلیلقب بالسجاد حین تَعَبُّدِہِیقضی بطول الصوم طول نہارہ منیباً ویقضي لیلہ بتھجدہ فاین بہ من علمہ ووفاۂ واین بہ من نسکہ وتعبدہ[7] ۔’’امام سجاد ؑ پہلے بھی اہل بیت میں عبادت گذار تھے اور اب بھی ہیں عبادت ہی کی بنا پر آپ ؑ کو سجاد کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے ۔آپ ؑ روزہ رکھ کر دن گذار تے ہیں، آپ ؑ توبہ کرتے رہتے ہیں اور رات نماز و تہجد میں بسر کرتے ہیں ۔تو بھلا علم و وفا داری اور عبادات میں آپ ؑ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ؟‘‘۔

۵۔زکی :آپ ؑ کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپ ؑ کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپ ؑ کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھاجو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔۶۔امین:آپ ؑ کے القاب میں سے ایک معروف لقب ’’امین [8]‘‘ہے، اس کریم صفت کے ذریعہ آپ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ ؑ کا فرمان ہے :’’اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتاتو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا ‘‘۔

۷۔ابن الخیرتین :آپ ؑ کے مشہور القاب میں سے ایک لقب ’’الخیرتین ‘‘ ہے، آپ ؑ کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جا تی تھی آپ فرماتے ہیں : ’’انا ابن الخیرتین ‘‘،اس جملہ کے ذریعہ آپ ؑ اپنے جد رسول اسلام (ص) کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے :’’للّٰہ تعالیٰ من عبادہ خیرتان،فخیرتہ من العربھاشم،ومن العجم فارس[9] ‘‘۔شبراوی نے آپ کو مندرجہ ذیل ابیات کے ذریعہ اس لقب سے یوں یاد کیا ہے :’’خیرۃ اللّٰہ من الخلق ابيبعد جدي وانا ابن الخیرتینفضۃ صیغت بماء الذھبینفانا الفضۃ وابن الذھبینمن لہ جدّ کجدي فی الوریٰ اوکأ بي وانا ابن القمرینفاطمۃ الزھراء امي وابيقاصم الکفر ببدرٍ و حنینولہ في یوم احدٍوقعۃ شفۃ الغلّ ببعض العسکرین[10] ‘

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :میرے جد کے بعد میرے والد بزرگوار بہترین مخلوق ہیں جس کی بنا پر میں بہترین افرادکا فرزند ہوں ۔میں وہ چاندی ہوں جس کو دو سونے کے پانی سے ڈھالا گیا ہے جس کی بنا پر میں چا ندی ہوں اور دو سونے کا فرزند ہوں ۔دنیا میں میرے جدکی طرح کس کے جد ہیں یا میرے بابا کی طرح کس کے بابا ہیں اور میں دو چاند کا فرزند ہوں ۔جناب فاطمہ (س) میری والدہ ہیں اور میرے پدر بزرگوار نے بدر و حنین میں کفر کو نابود کیا ۔جنگ اُحد میں میرے دادا نے بے مثال جنگ کی جس کی بنا پر لشکریانِ کفر کے دلوں میں آپ ؑ کا کینہ بیٹھ گیا ‘‘۔زیادہ احتمال یہ ہے کہ یہ اشعار امام زین العابدین علیہ السلام کے سلسلہ میں نہیں ہیں کیونکہ یہ آپ کی ذات بابرکت میں پائے جانے والے بلندصفات و کمالات کو بیان کرنے سے قاصرہیں۔

شایان ذکر ہے کہ امام حسین (ع) کی نسل امام زین العابدین (ع) سے آگے بڑی ہے اور حسینی سادات کاسلسلہ نسب امام علی زین العابدین (ع) سے شروع ہوتا ہے.

حوالہ جات

[1] الصراط السوی فی مناقب آل النبی ؐ ، صفحہ ۱۹۲۔

[2] تہذیب التہذیب ،جلد ۷،صفحہ ۳۰۶۔شذرات الذہب، جلد ۱،صفحہ ۱۰۴، اور س میں بیان ہواہے :آپ ؑ کوزیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے یہ لقب دیا گیا ۔

[3] صبح الاعشی جلد ۱،صفحہ ۴۵۲۔بحرالانساب :ورقہ ۵۲۔تحفۃ الراغب ،صفحہ ۱۳۔اضداد فی کلام العرب ،جلد ۱،صفحہ ۱۲۹۔ثمار القلوب، صفحہ ۲۹۱۔اور اس میں بیان ہوا ہے :علی بن الحسین ؑ اور علی بن عبد اللہ بن عباس کے لئے کہا جاتا ہے کہ :زیادہ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے ان کے اعضاء سجدہ پر سجدوں کی وجہ سے اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے ۔

[4] علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔بحارالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۶۔وسائل الشیعہ، جلد ۴،صفحہ ۹۷۷۔

[5] علل الشرائع، صفحہ ۸۸۔

[6] وسائل الشیعہ، جلد ۴، صفحہ ۹۷۷۔علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔

[7] المناقب ،جلد ۴، صفحہ ۱۶۴

[8] فصول مہمہ، مؤلف ابن صبّاغ، صفحہ ۱۸۷۔بحر الانساب ،ورقہ صفحہ ۵۲۔نورالابصار ،صفحہ ۱۳۷۔

[9] کامل مبرد ،جلد ۱،صفحہ ۲۲۲۔وفیات الاعیان ،جلد ۲،صفحہ ۴۲۹۔ 

[10] الاتحاف بحبّ الاشراف، صفحہ ۴۹۔